اسلام آباد سے ایک اور سماجی کارکن لاپتہ

  • 11 جنوری 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Progressive Pakistan Alliance
Image caption ثمر عباس کی گمشدگی کی اطلاع اسلام آباد پولیس کو نہیں دی گئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اور کارکن لاپتہ ہوگیا ہے، ثمر عباس کے خاندان اور دوستوں کو شبہ ہے کہ انھیں حراست میں لیا گیا ہے۔

ثمر عباس کا تعلق کراچی سے ہے، ان کے بھائی قمبر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ثمر تین جنوری کو کسی کام کے سلسلے میں اسلام آباد گئے تھے جہاں سے وہ موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے میں تھے۔

پاکستان میں گمشدہ بلاگرز کی رہائی کے لیے مظاہرے

سلمان حیدر اور دیگر افراد کی بازیابی کا مطالبہ

سنیچر کی رات دس بجے ان سے آخری بار رابطہ ہوا تھا جس کے بعد مسلسل کال کرتے رہے اور دوسرے روز دوپہر 12 بجے ٹیلیفون بند کردیا گیا۔

ثمر عباس کی گمشدگی کی اطلاع اسلام آباد پولیس کو نہیں دی گئی۔

ثمر عباس کراچی میں جعفریہ ڈزاسٹر سیل، انصار برنی کے علاوہ سول پروگریسیو الائنس کے ساتھ سرگرم رہے ہیں۔

قمبر علی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ان کا کوئی رشتے دار نہیں ہے اور وہ ایف آئی آر کے علاوہ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا ثمر گذشتہ تین سالوں سے سرگرم تھے جس طرح سلمان حیدر کو اٹھایا گیا ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے کسی نے انھیں بھی اٹھایا ہو۔

سول پروگریسیو الائنس کے رکن طالب عباس کا کہنا ہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے ثمر عباس سرگرم رہے، اس کے علاوہ وہ خرم ذکی کے ساتھ کالعدم تنظیموں کے خلاف سرگرم بھی رہے ہیں۔

طالب عباس کا کہنا ہے کہ ثمر عباس کی ایسی کوئی سرگرمی نہیں تھی جو قابل اعتراض ہو۔ وہ محب وطن شہری تھے اور ریاست مخالف سوچ نہیں رکھتے تھے۔ 'اگر کوئی اقلیتوں یا پسے ہوئے طبقات کی بات کرتا ہے تو وہ ریاست مخالف ہرگز نہیں ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں