سندھ کے گورنر سیعد الزماں صدیقی انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Governor House
Image caption گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق سعید الزمان صدیقی بدھ کی شام ایک نجی ہپستال میں انتقال کر گئے۔ انھوں نے گذشتہ سال 11 نومبر کو گورنر کا حلف لیا تھا

سندھ کے 80 سالہ گورنر جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی بدھ کی شام کراچی میں انتقال کر گئے ہیں، وہ صوبے کے 31 گورنر تھے۔

گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق سعید الزمان صدیقی بدھ کی شام ایک نجی ہپستال میں انتقال کر گئے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ سال 11 نومبر کو گورنر کا حلف لیا تھا۔

ایک ’محبِ وطن‘ گورنر کی تقرری

عشرت العباد کی جگہ سعید الزماں صدیقی گورنر سندھ

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی گذشتہ کئی سالوں سے بیمار تھے۔

گورنر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے وہ کئی روز تک ہسپتال میں بھی زیر علاج رہے اور بیشتر وقت حالت علالت میں گذارا۔

سندھ کے 80 سالہ گورنر سعید الزمان صدیقی سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کانفلیکٹ ریزولیوشن سینٹر نامی قانونی ادارہ چلانے کے علاوہ ڈیفنس ریزیڈنس ایسو سی ایشن میں سرگرم تھے۔

سنہ 2008 میں مسلم لیگ نواز نے انھیں سابق صدر آصف علی زرداری کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کی پیدائش یکم دسمبر سنہ 1937 کو کلکتہ میں ہوئی۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں حاصل کی اور اس کے بعد ان کا خاندان ڈھاکہ منتقل ہو گیا جہاں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور ڈھاکہ سے کراچی آگئے۔ یہاں انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

سنہ 1970 کی دہائی میں وہ بار کی سیاست میں سرگرم رہے اور سنہ 1980 میں انھیں سندھ ہائی کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔

سنہ 1990 میں وہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے لیکن یہ عرصہ صرف ایک ماہ پر محیط تھا اس کے بعد انھیں سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور اس وقت کی میاں نواز شریف حکومت میں اختلافات سامنے آئے تو سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے سجاد علی شاہ کو معطل کر دیا، جس کے بعد جسٹس اجمل میاں چیف جسٹس بنے اور بعد میں جسٹس سعید الزمان صدیقی نے یہ جگہ لی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم اصغر خان کیس کی سماعت بھی جسٹس سعید الزمان صدیقی نے کی تھی لیکن فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا، یہ درخواست اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر سیاستدانوں کو پیسے تقسیم کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل مشرف کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم کے تحت جسٹس سعید الزمان صدیقی نے حلف نہیں لیا تھا جس کے بعد انھیں فارغ کردیا گیا۔

ایک انٹرویو میں جسٹس سعید الزمان نے جنرل پرویز مشرف سے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جب شریعت کورٹ نے سود کے خلاف فیصلہ دیا تو جنرل مشرف نے انھیں کہا تھا کہ وہ انھیں غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں لیکن انھوں نے واضح کیا تھا کہ یہ درخواست سنہ 1999 سے دائر تھی فیصلہ اب آیا ہے۔

اسی بارے میں