’درخواست گزار اور وزیراعظم کے وکیل سچ سامنے آنے نہیں دینا چاہتے‘

سپریم کورٹ
Image caption جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ ایک کھلی کتاب ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کتاب کے کچھ صفحے غائب ہیں

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست گزار اور وزیراعظم کے وکیل سچ سامنے آنے نہیں دینا چاہتے جبکہ عوام سچ جاننا چاہتی ہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حقائق جاننے کے لیے ایک طرف جاتی ہے تو وہ اس کے راستے میں دیوار کھڑی کردیتے ہیں جبکہ دوسری طرف جائیں تو وہاں بھی یہی صورت حال ہے۔

وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی طرف سے پارلیمان اور قوم سے خطاب میں کاروبار سے متعلق تفصیلات نہ بتانا جھوٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔

اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ان تقاریر کو آدھا سچ یا پھر جھوٹ مان لیں۔

مخدوم علی حان نے کہا کہ اُن کے مؤکل نے اپنی تقریر میں کسی مخصوص سوال کا جواب نہیں دیا بلکہ عمومی طور پر اپنے کاروبار کا ذکر کیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ منی ٹریل کے بارے میں ثبوت دینا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب جائیداد کی ملکیت تسلیم کرلی گئی ہے تو اس کے ثبوت فراہم کرنا بھی مدعلیہان پر ہی ہوتا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت وزیراعظم کی طرف سے پارلیمنٹ ہاؤس میں کی جانے والی تقریر کا جائزہ لیتی ہے تو پھر عدالت کو آئین کے آرٹیکل 66 کو بھی سامنے رکھنا ہوگا جو پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کے قانونی تحفظ کے بارے میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریکِ انصاف کی درخواست ہے کہ وزیرِ اعظم کو نا اہل قرار دیا جائے

وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکل نے بینکوں سے قرضہ لے کر بیرون ملک کاروبار شروع کیا اور اگر عدالت اس بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے تو اس بارے میں کمیشن بنائیں جو دبئی جا کر ریکارڈ کا جائزہ لے۔

اُنھوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کا نام نہ تو پاناما لیکس میں آیا ہے اور نہ ہی وہ کسی آف شور کمپنی کے مالک ہیں اور نہ ہی بیرون ملک میں اُن کی کوئی جائیداد ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کاروبار نواز شریف کے بچوں کا ہے اور اُن کے وکیل ہی اس بارے میں جواب دیں گے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ ایک کھلی کتاب ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کتاب کے کچھ صفحے غائب ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سچ سامنے لانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔

مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں نے سابق امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر کی کتاب کا حوالہ دیا ہے جس میں وزیراعظم کے کاروبار سے متعلق بھی باتیں کہی گئی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر اس کو سچ مان لیا جائے تو پھر اس کتاب میں تو پاکستانی فوج کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے تو پھر کیا اس کو بھی تسلیم کرلیا جائے گا۔

Image caption درخواستوں کی سماعت 13 جنوری کو پھر ہوگی اور وزیراعظم کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے

وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے مؤکل کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں میں درخواست گزاروں نے خود اپنے ہی موقف کی تردید کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ نااہلی کا قانون صرف وزیر اعظم پر ہی نہیں بلکہ تمام ارکان پارلیمان پر لاگو ہوتا ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس معاملے کی حساسیت کا علم ہے کیونکہ ان درخواستوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ نظیر بنے گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات میں عدالت کے پاس نامعلوم لاش آتی ہے تو اس پر فریقین کے پاس کوئی شواہد نہیں ہوتے جس پر عدالت واقعاتی شہادتوں کو بنیاد بناتے ہوئے کوئی رائے قائم کرتی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت 13 جنوری کو پھر ہوگی اور وزیراعظم کے وکیل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں