’پاکستانی ایئرلائنز خلیجی کمپنیوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں‘

Image caption عرفان الٰہی سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن حکومتِ پاکستان

حکومتِ پاکستان کے سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن نے کہا ہے کہ حکومت مشرق وسطیٰ کی بعض ایئرلائنز کے خلاف پاکستان میں کاروبار بڑھانے کے لیے غیر قانونی طور پر اخراجات سے بھی کم قیمت پر ٹکٹ فروخت کرنے کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن عرفان الہیٰ نے جو اس وقت پی آئی اے کے قائم مقام چیئرمین بھی ہیں، بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 'اس وقت تو یہ حال ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ تھوڑی بہت یہاں پر ’کپیسٹی ڈمپنگ‘ ہو رہی ہے خصوصاً خلیجی ایئرلائنز کی جانب سے۔'

یاد رہے کہ کپیسٹی ڈمپنگ ہوابازی کی اصطلاح ہے اور یہ تب استعمال کی جاتی ہے ’جب ایک فضائی کمپنی یا کمپنیاں دوسری فضائی کمپنیوں کو میدان سے باہر کرنے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ روٹس پر زیادہ پروازیں چلائے اور کرائے کم کر دے جس سے مقابلہ کرنے والے میدان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں یا خسارے میں جائیں۔'

عرفان الہیٰ نے اس حوالے سے مزید کہا کہ 'اس کے بارے میں ہم غور کر رہے ہیں کہ اینٹی ڈمپنگ کیسے کی جائے۔ کیونکہ یہاں سے اگر ہم لندن جار رہے ہیں سو پاؤنڈ میں اور کوئی اور ایئرلائن ستر پاؤنڈ میں جاتی ہے اور ستر پاؤنڈ لاگت نہیں بنتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کپیسٹی ڈمپنگ ہو رہی ہے یہاں پر۔ شاید کاروباری مقاصد کے لیے یا گاہکوں کے لیے۔ تو اس کے بارے میں بھی غور ہو رہا ہے کہ کوئی کپیسٹی ڈمپنگ نہ کر سکے۔'

سیکریٹری ایوی ایشن نے مزید کہا کہ 'ہم نے اپنے قانونی مشیر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں کہ کوئی اس طرح ہمیں نقصان نہ پہنچائے۔'

یاد رہے کہ پاکستان کی مقامی فضائی کمپنیوں میں پی آئی اے کے علاوہ شاہین ائیر اور ایئربلو کو مشرقِ وسطی کی فضائی کمپنیوں خصوصاً خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

صرف متحدہ عرب امارات کی چار فضائی کمپنیاں ایمرٹس، اتحاد ایئر ویز، فلائی دبئی اور ایئر اریبیا پاکستان میں کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، اسلام آباد اور پشاور کے لیے پروازیں چلاتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں پاکستانی فضائی کمپنیاں جن میں ایئر بلو، شاہین ایئر اور پی آئی اے ابوظہبی، دبئی اور شارجہ کے لیے ہی پروازیں چلاتی ہیں جن کا ہفتہ وار تناسب نصف سے بھی کم ہے۔

اسی وجہ پاکستان کی نجی فضائی کمپنیاں ان خدشات کا اظہار پہلے سے کر چکی ہیں کہ 'صرف متحدہ عرب امارت سے چار سے پانچ فضائی کمپنیاں پاکستان کے تقریباً ہر ایک ایئرپورٹ کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں اور بعض اوقات وہ کرائے اتنے گرا دیتی ہیں کہ اس کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے جس سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ کپیسٹی ڈمپنگ کر رہی ہیں۔'

Image caption لاہور کے ہوائی اڈے کا ایک منظر

فضائی کمپنوں کی جانب سے گذشتہ چند سالوں سے ان خدشات ک اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ غیرملکی فضائی کمپنیاں خصوصاً خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والی فضائی کمپنیاں پاکستان میں مقابلے کی فضا کو خراب کر رہی ہیں۔

اگر حکومت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ خلیجی فضائی کمپنیاں کپیسٹی ڈمپنگ کر رہی ہیں تو وہ ان ممالک کے ساتھ دو طرفہ ہوا بازی کے معاہدوں پر نظرثانی کر سکتی ہے یا اوپن سکائی پالیسی میں تبدیلی لا سکتی ہے یا اس میں کپیسٹی یعنی پروازوں کی تعداد اور نشستوں کی تعداد متعین کر سکتی ہے۔

جہاں موجودہ ہوا بازی کی پالیسی کے مختلف پہلوؤں کو مثبت قرار دیا جاتا ہے وہیں اس پر تنقید کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی کے بعد سے خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں نے پاکستانی مارکیٹ پر غلبہ پا لیا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی فضائی کمپنیوں کے خلاف اس قسم کے تحفظات کا اظہار امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی فضائی کمپنیاں کر چکی ہیں۔

اسی بارے میں