رقم کی ادائیگی میں تاخیر، فاٹا متاثرین کا احتجاج

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے نوجوانوں نے فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے متاثرین کو فراہم کی جانے والی رقم کی فراہمی میں تاخیر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں یہ رقم فوری طور پر جاری کی جائِے۔

فوجی آپریشنز کے نتیجے میں اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے بیشتر افراد کی واپسی ہو چکی ہے لیکن اب بھی کوئی ساٹھ ہزار سے زیادہ خاندان دیگر علاقوں میں خیموں یا کرائے کے مکانات میں رہائش پزیر ہیں۔

٭فاٹا اصلاحات پر اتفاق کیوں نہیں؟

شمالی وزیرستان ایجنسی سے تعلق رکھنے والے طلباءاور نوجوانوں نے جمعے کو پشاور پریس کلب سے ریلی نکالی اور گورنر ہاؤس تک جانے کی کوشش کی لیکن انھیں گورنر ہاوس تک نہیں جانے دیا گیا ۔ ان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ہر ماہ بارہ ہزار روپے امدادی رقم دی جاتی ہے لیکن اب چار ماہ سے انھیں یہ رقم ادا نہیں کی گئی۔

اس احتجاجی مطاہرے کی قیادت اسد اللہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کی زندگی گزارنا ایک عذاب سے کم نہیں ہے اور اس میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی رقم میں تاخیر سے متاثرین کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

اسداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان متاثرین کے لیے پچیس ہزار روپے کے رمضان پیکج کا اعلان کیا تھا جسے ایف ڈی ایم اے کے حکام نے ان کی دو ماہ کی قسطوں میں برابر کر دیا ہے حالانکہ رمضان پیکج معمول کی ماہانہ رقم سے علیحدہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایف ڈی ایم اے کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں اور انھیں نہیں معلوم کہ حکام ایسا کیوں کر رہے ہیں۔

اس بارے میں قبائلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کی ڈائریکٹر جنرل خالد خان سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ نومبر اور دسمبر کی قسط وفاقی فنانس ڈویژن نے ابھی جاری نہیں کیں اور جیسے ہی رقم انھیں فراہم کی جائے گی وہ متاثرین تک پہنچا دیں گے ۔

دوسری جانب بیشتر علاقوں میں جہاں متاثرین کی واپسی ہو چکی ہے ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جنھوں نے واپسی کے لیے اپنے آپ کو رجسٹرڈ نہیں کرایا انھیں کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایف ڈی ایم اے کے حکام سے رابطہ کریں وگرنہ ان کی متاثرین یا آئی ڈی پی کی حیثیت ختم کر دی جائے گی۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ حکومت ان متاثرین کی اپنے علاقوں کو واپسی کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس سال جون تک تمام متاثرین اپنے علاقوں کو واپس چلے جائیں گے ۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون سال دو ہزار چودہ میں شروع کیا گیا تھا جس سے کوئی دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔ ان متاثرین کو حکومت کی جانب سے نقل رقم ، خوراک کا راشن ، روزانہ استعمال کی اشیاء اور آنے جانے کے اخراجات دیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے مکانات مکمل تباہ ہوئے یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے انھیں بھی رقم دینے کے وعدے کیے گئے ہیں لیکن متاثرین کے مطابق یہ رقم آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔

اسی بارے میں