قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص سیٹیں بڑھانے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
Image caption یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی 342 نشتوں میں سے فی الحال 60 خواتین کے لیے مختص ہیں جبکہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 48.6 فیصد حصہ خواتین کا ہے۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے قائم قومی کمیشن نے حکومتِ پاکستان کو تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے مختص سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔

سنیچر کو نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نے یہ تجاویز پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کو بھیجیں۔

کمیشن کی چیئر پرسن خاور ممتاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی نے اصلاحات کے لیے قانون کا دوسرا مسودہ شائع کیا ہے اور اس پر کمیشن سے تجاویز طلب کی ہیں۔

کمیشن کی سربراہ خاور ممتاز کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کمیشن کی کمیٹی برائے قانون اور پالیسی نے انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کا جائزہ لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Khawar Mumtaz
Image caption خاور ممتاز نے بتایا کہ تجاویز میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ کسی بھی انتخاب کو جائز قرار دینے کے لیے ووٹروں کی تعداد میں دس فیصد خواتین کا ہونا لازمی کر دیا جائے۔

خاور ممتاز نے بتایا کہ تجاویز میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ کسی بھی انتخاب کو جائز قرار دینے کے لیے ووٹروں کی تعداد میں دس فیصد خواتین کا ہونا لازمی کر دیا جائے۔

خاور ممتاز کے مطابق کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ہر جماعت کو کم از کم دس فیصد ٹکٹیں خواتین کو دینی چاہیئیں اور اپنی ہر فیصلہ ساز کمیٹی میں 33 فیصد حصہ خواتین کے لیے مختص کرنا چاہیے۔

پارلیمان میں مختص سیٹوں پر آنے والے قانون سازوں کے حوالے سے ایک رائے یہ پائی جاتی ہے کہ ایسے اراکین کی اپنے حلقوں میں حقیقی یا نچلی سطح پر مقبولیت انتہائی کم ہوتی ہے اور اسی لیے وہ اہم قانون ساز نہیں بن پاتے۔

اس حوالے سے سوال کے جواب میں خاور ممتاز کا کہنا تھا کہ وہ اس رائے سے کسی حد تک اتفاق کرتی ہیں تاہم کسی حد تک ان کی رائے اس کے برعکس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان تمام اقدامات کا مقصد خواتین کو ملکی سیاست کے مرکزی دھارے میں لانا ہے اور تعداد میں اضافے سے اس عمل میں تیزی آئے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہترین بات تو یہ ہو کہ خواتین کی سیٹوں پر اراکین انتخاب لڑ کر آئیں چنانچہ تجاویز میں یہ بات شامل ہے کہ خواتین کی سیٹوں پر براہِ راست انتخاب کروانے کے طریقہِ کار پر بھی غور کیا جائے۔‘

خاور ممتاز نے بتایا کہ کمیشن کی تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے ریزروو سیٹ پر ایک ہی خاتون آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس شرط کی وجہ سے ملک کے وسیع تر حصے کی خواتین کی ملکی سیاست کے مرکزی دھارے میں شمولیت ممکن ہو سکے گی۔‘

مختص سیٹوں کے حوالے سے پاکستان میں ماضی میں ایک رجحان یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ریزروو سیٹوں پر سیاسی جماعت کے سربراہ یا با اثر افراد کے خاندان کے لوگوں کو پارلیمنٹ کا رکن بنا دیا جاتا ہے۔ مختص سیٹیں بڑھانے سے کیا اس رجحان میں اضافہ نہیں ہوگا؟

اس کے جواب میں خاور ممتاز نے کہا کہ موروثی سیاست پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی اتنی ہی ہوتی ہے۔ ’موروثی سیاست کے پیچھے تو اور بہت سی چیزیں ہیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی 342 نشتوں میں سے فی الحال 60 خواتین کے لیے مختص ہیں جبکہ پاکستان کی آبادی کا تقریباً 48.6 فیصد حصہ خواتین کا ہے۔

اسی بارے میں