’پاکستان میں معمول سے زیادہ سردی لیکن صرف چند دن‘

Image caption بارشوں کے دوسرے سلسلے کی وجہ سے بلوچستان میں جاری خشک سالی کا خاتمہ ہوا

پاکستان میں اس مرتبہ موسم سرما کی آمد دیر سے ہوئی۔ سردی کی لہر کافی شدید رہی اور ملک کے جنوبی علاقوں میں جل تھل کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں برفباری کا سبب بنی لیکن یہ صورتحال زیادہ دن کے لیے نہیں ہے۔

پاکستان میں مون سون کے بعد عموماً ہونے والی بارشوں کے سنہ 2016 میں نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف موسم گرما طویل ہوا اور درجۂ حرارت میں بھی دو سے تین ڈگری کا اضافہ ہوا بلکہ سرما کا آغاز بھی تاخیر کا شکار ہوتے ہوتے جنوری تک جا پہنچا۔

* سردی آ ہی گئی: کوئٹہ میں برف، کراچی بھی جل تھل

* سرینگر سے استنبول تک برف ہی برف

پاکستان میں نئے سال کی آمد موسمِ سرما کی آمد کی بھی نوید لائی اور ملک کے شمالی حصوں میں بارش اور برفباری ہوئی جس کے بعد اب جمعے کی شام سے ملک کے جنوبی حصوں میں جاری بارشوں کے دوسرے سلسلے نے بلوچستان اور سندھ کے علاقوں کو سیراب کیا اور یوں بلوچستان میں جاری خشک سالی کا خاتمہ ہوا۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’رواں جنوری معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہے لیکن اس کی مدت زیادہ نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پارشوں اور برفباری کا حالیہ سلسلہ بلوچستان کی ساحلی پٹی سے شروع ہوا۔ بلوچستان جو خشک سالی کے باعث پانی کی شدید کمی کا شکار ہو رہا تھا وہاں خوب برفباری اور بارش ہوئی۔ ‘

Image caption رواں جنوری میں درجۂ حرارت معمول سے دو سے تین ڈگری کم ہیں

’اب یہ سلسلہ سندھ اور بلوچستان سے نکل چکا ہے اور پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگلت بلتستان اور کشمیرسمیت شمالی علاقوں میں بارشوں کا سبب بن رہا ہے اور پہاڑوں پر برفباری ہو رہی ہے۔ تین دن میں یہ سلسلہ کمزور پڑنا شروع ہو جائے گا۔‘

ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ جنوری میں عموماً میدانی علاقوں میں ایک سے ڈیڑھ انچ اور پہاڑی علاقوں میں دو انچ بارش ہوتی تھی اور امکان ہے کہ یہ دونوں سلسلے مل کر اس مقدار کو پورا کر لیں گے۔‘

اگرچہ سردیوں کے آنے میں تاخیر ہوئی ہے لیکن سردی آئی جم کر ہے۔

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق ’رواں جنوری میں درجۂ حرارت معمول سے دو سے تین ڈگری کم ہیں یعنی یہ سرد ترین جنوری ہے تاہم اس سردی کا دورانیہ بہت ہی کم ہے۔ ‘

’اس سردی کی طوالت زیادہ نہیں ہے۔ فروری کے وسط سے بہار کا موسم شروع ہو جائے گا۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمیاں طویل اور سردیاں قلیل مدت پر محیط ہو گئی ہیں اور بہار کا موسم تو تقریباً معدوم ہی ہوتا جا رہا ہے۔ چند ہفتوں میں درجۂ حرارت انتہائی بڑھ جاتے ہیں اور مارچ کے آخر تک گرمی ہو جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا تھا کہ اگرچہ سردیوں کی مدت کم ہو کر ڈیڑھ ماہ تک آ چکی ہے لیکن ایسا گذشتہ دس سال سے ہو رہا ہے۔

Image caption رواں سردیوں میں برفباری تو ہوئی ہے لیکن کوئی ریکارڈ نہیں ٹوٹا

’سنہ 2006 میں محتصر ترین سردیاں پڑیں۔ تب بھی جنوری میں درجۂ حرارت منفی چھ تک گیا لیکن یہ دورانیہ محض چھ سے سات دن رہا اور فروری میں اچانک درجۂحرارت بڑھنے لگے اور گرمی ہو گئی۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’اگر اسلام آباد کی بات کی جائے تو جب رات کے وقت درجۂ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہو جائیں تو اسے گرمی قرار دیا جاتا ہے اور اگر اس سے کم ہوں تو یہ سردی کہلاتی ہے۔‘

رواں سردیوں میں برفباری تو ہوئی ہے لیکن کوئی ریکارڈ نہیں ٹوٹا۔

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق ’بلوچستان میں قلات سرد ترین علاقہ ہے جہاں ماضی میں کم سے کم درجۂ حرارت منفی 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جا چکا ہے لیکن تاحال یہاں درجۂ حرات منفی بارہ تک ہی پہنچا ہے۔ اسی طرح شمالی علاقے سکردو میں اس سے پہلے کم سے کم درجۂ حرارت کا ریکارڈ منفی 26 ڈگری سینٹی گریڈ ہے تاہم رواں سرما میں اب تک وہاں منفی 16 ڈگری سینٹی گریڈ تک سردی ہوئی ہے۔‘

Image caption اگلے دونوں سلسلوں میں ملک کے جنوبی حصوں میں بارشیں نہیں ہوں گی

یعنی رواں موسمِ سرما کی شدید ترین سردی بھی معمول کی شدید ترین سردی تک نہیں پہنچی۔

ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ ’تین دن بعد بارشوں کا رواں سلسلہ ختم ہو جائے گا اور اس کے بعد جنوری کے آخری ہفتے اور پھر فروری کے پہلے ہفتے میں دوبارہ بارشیں ہونے کا امکان ہے۔ ‘

’اگلے دونوں سلسلوں میں ملک کے جنوبی حصوں میں بارشیں نہیں ہوں گی بلکہ زیادہ تر یہ شمالی علاقوں میں ہی ہوں گی۔ ‘

پاکستان میں سردیوں کی بارشیں مغرب سے آنے والے ہواؤں کے سبب ہوتی ہیں جو بحیرہ اوقیانوس اور بحیرہ روم سے پانی لے کر آتی ہیں اور پاکستان کے شمالی حصوں سے گزرتے ہوئے یہاں بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کا سبب بنتی ہیں۔

اسی بارے میں