الزام تراشیوں سے خطے میں امن دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے: قمر جاوید باجوہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف جنرل باجوہ کا شکریہ ادا کیا اور خطے کے امن و استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون کرکے افغانستان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان واقعات میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

* کابل میں مزار پر حملے میں 14 افراد ہلاک

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کی سرحد پر نقل و حرکت کو روکنے میں تعاون کرے۔

آرمی چیف نے تجویز کیا کہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے موثر بارڈر مینجمنٹ میکنزم اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔

بیان کے مطابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ ’ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے خطے میں امن دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔‘

آرمی چیف اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے افغان حکومت اور عوام کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہے جو خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان واقعات میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتا آیا ہے اور اس دوران شدت پسندوں کے تمام محفوظ ٹھکانوں کو ختم کردیا گیا ہے۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ ’دونوں ملکوں کو آپریشن ضرب عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف جنرل باجوہ کا شکریہ ادا کیا اور خطے کے امن و استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کابل میں متعدد افراد نے شدت پسندوں کی مبینہ حمایت پر پاکستانی سفارتخانے کے باہر پاکستان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔.

اسی بارے میں