کوئٹہ میں دو پولیس اہلکاروں کی ’ٹارگٹ کلنگ‘

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملوں میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

دونوں پولیس اہلکاروں کو پیر کی شب آدھے گھنٹے کے دوران کلی دیبہ کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

سول لائنز پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مارے جانے والے اہلکاروں میں سے ایک کا تعلق سول لائنز پولیس سٹیشن سے تھا جبکہ دوسرا ٹریفک پولیس کا اہلکار تھا۔

نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان میں سے ایک اہلکار کو سول لائنز جبکہ دوسرے اہلکار کو بروری پولیس سٹیشن کی حدود میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا۔

پولیس اہلکار نے دونوں واقعات کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی مذمت کی ہے۔

ای میل پر بھیجے جانے والے ایک بیان میں دونوں پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری کالعدم لشکری جھنگوی العالمی نے قبول کی ہے۔

کوئٹہ شہر میں رواں مہینے کے دوران تشدد کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا چوتھا واقعہ ہے۔

گذشتہ ہفتے دیبہ ہی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں لیویز فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہوا تھا جبکہ اس سے قبل جناح ٹاؤن کے علاقے میں پولیس کے ایک اے ایس آئی کو مارا گیا تھا۔

گذشتہ سال بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے دیگر واقعات میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں ڈیڑھ سو سے زائد پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں