’تحفوں کی شکل میں کالے دھن کو سفید کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی؟‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل کے سامنے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا اُن کے موکل کی طرف سے تحفوں کی شکل میں اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ بیرون ممالک میں کیے گئے کاروبار کے لیے رقم کی منتقلی کیسے ہوئی اور اس کے بارے میں کوئی بھی شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز نے چار سال کے دوران اپنے والد کو 52 کروڑ روپے بھجوائے ہیں۔

٭ فریقین سچ سامنے آنے دینا نہیں چاہتے: سپریم کورٹ

٭ پاناما لیکس کے بعد کیا ہوا؟

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت کا سوال ابھی تک وہی ہے کہ اس رقم کا ماخذ کون ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ٹیکس افسر اس رقم پر یہ بات مدنظر رکھے گا کہ اس پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے یا نہیں اور وہ اس محرکات کے بارے میں نہیں پوچھے گا کہ یہ پیسہ کس طرح کمایا گیا اور کہاں سے آیا۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے جو چیزیں رکھی گئی ہیں اس کے مطابق 52 کروڑ روپے کی رقم دو آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیکسول سے تو حاصل نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کمپنیوں نے تو صرف فلیٹ خریدے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ رقم کس منافع بخش کاروبار سے حاصل ہوئی اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔

وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ حسین نواز کے جدہ اور دیگر ممالک میں بھی کاروبار ہیں اس لیے وہاں سے منافع کی رقم اپنے والد نواز شریف کو بھجوائی ہو گی تاہم مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں جواب وزیراعظم کے بچوں کے وکیل ہی دیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں کا ایک حصہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کالے دھن کو چھپانے کے لیے منی لانڈرنگ کی جاتی ہے جس کے بعد اسی کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے وہی رقم وطن واپس بھجوائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے وضاحت کی کہ یہ بات وزیراعظم کے لیے نہیں کہی۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ فریقین سچ کو سامنے آنے نہیں دینا چاہتے اور کوئی بھی دستاویزات عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت میں اب تک پیش کی گئی دستاویزات کو سامنے رکھتے ہوئے سچ تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کبھی نہ کبھی تو سچ سامنے آئے گا اور کسی نہ کسی کو تو اس کا جواب دینا ہوگا، عوام اس بارے میں سچ جاننا چاہتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میاں نواز شریف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل نے تقاریر اور پھر عدالت میں جو موقف اختیار کیا ہے اس میں تضاد ہے لہٰذا پہلے عدالت کو اس بارے میں مطمئن کیا جائے۔

عدالت کی طرف سے مریم نواز کے اپنے والد کے زیر کفالت ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مخدوم علی حان کا کہنا تھا کہ سنہ1992 میں مریم نواز کی شادی ہوئی تھی اور اس کے بعد وہ کبھی وزیراعظم کی زیر کفالت نہیں رہیں۔

عدالت کے استفسار پر وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ سرکاری محکموں میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں مریم نواز کو اس لیے زیر کفالت کالم میں رکھا گیا کیونکہ انکم ٹیکس کے فارم میں کسی دوسرے کالم کی جگہ نہیں تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ سنہ2015 میں اس کالم میں ترمیم کی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اپنی بیٹی کو کروڑوں روپے تحفے کی مد میں دیے اور ساری ٹرانزیکشن بینک کے ذریعے کی گئی جس کا ریکارڈ موجود ہے۔

مخدوم علی خان جمعرات کے روز بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے حزب مخالف کی جماعت، جماعت اسلامی کی طرف سے وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم سمیت اس درخواست میں بنائے گئے فریقوں کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

اسی بارے میں