’آج بھی سماعت کے دوران سونا پڑے گا‘

پی ٹی آئی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو وزیراعظم میاں نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل چھٹے روز بھی جاری رکھے۔

اپنے دلائل کے دوران جب اُنھوں نے مختلف فیصلوں کے حوالے دینا شروع کیے تو کمرہ عدالت میں موجود حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکن آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے: ’بور دلائل دوبارہ شروع ہو گئے ہیں اور لگتا ہے کہ آج بھی سماعت کے دوران سونا پڑے گا‘۔

پاناما لیکس:’کالے دھن کو سفید کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی؟‘

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے تین گھنٹوں کے دوران کمرہ عدالت میں موجود لوگ وزیراعظم کے وکیل کے دلائل میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لے رہے تھے لیکن جونہی میاں نواز شریف کو اپنے بیٹے کی طرف سے کروڑوں روپے بطور تحفہ ملنے اور منی ٹریل کے معاملات سامنے آئے تو سب کی توجہ عدالتی کارروائی کی طرف مبذول ہو گئی۔

سماعت کے دوران اس پانچ رکنی بینچ میں شامل جج صاحبان وزیراعظم کے وکیل سے منی ٹریل کے بارے میں سوال کرتے تو کمرہ عدالت میں موجود حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان کے چہرے پر سنجیدگی چھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی ساری توجہ عدالت کی طرف مرکوز ہو جاتی۔

منی ٹریل کے بارے میں جتنے بھی سوال پوچھے جاتے تو عمران خان اور جہانگیر ترین اپنی نشست پر کھڑے ہو جاتے اور جب سوال مکمل ہو جاتا تو وہ اپنی نشست پر دوبارہ بیٹھ جاتے۔

بدھ کے روز بارش کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ دو گھنٹے کی تاخیر سے عدالت پہنچے۔

وزیر اعظم کے بیٹے حسین نواز کی طرف سے چار سال کے دوران اپنے والد کو 52 کروڑ روپے بطور تحفہ بھیجنے سے متعلق بینچ میں موجود جسٹس اعجاز افصل کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں تو یہ روایت چل رہی ہے کہ ہمیشہ باپ اپنے بیٹوں کو تحفے یا رقم دیتا ہے جبکہ اس معاملے میں بیٹا باپ کو تحفے دے رہا ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہمارے ہاں تو بیٹا باپ کو گھڑی وغیرہ تحفے میں دیتا ہے لیکن یہاں پر تو معاملہ ہی دوسرا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ امیر لوگ آپس میں اتنے ہی بڑے تحفے دیتے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ایسا کونسا کاروبار ہے جس میں اتنا منافع ہے کہ چار سال کے دوران 52 کروڑ روپے بطور تحفہ اپنے والد کو بجھوائے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بات تو طے ہے کہ دو آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیکسول سے تو یہ منافع نہیں کمایا گیا کیونکہ اس کپنیوں نے صرف فلیٹ خریدے ہیں۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کبھی حسین نواز سے پوچھا ہے کہ وہ بیرون ملک کرتے کیا ہیں اور کونسا کاروبار کرتے ہیں جس میں اتنا منافع ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے کچھ دیر تو حسین نواز کا تحفظ کیا کہ اُن کی بیرون ملک سٹیل ملز بھی ہیں اور دوسرے کاروبار بھی ہیں جو منافع بخش ہیں تاہم عدالت کی طرف سے اس ضمن میں ممکنہ طور پر مزید سوالات پوچھے جانے کے ڈر سے اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے بچوں کے کاروبار کے بارے میں جواب اُن کے وکیل ہی دیں گے۔

سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے بارہا اصرار ہوتا رہا کہ کوئی فریق منی ٹریل تو سامنے لے کر آئے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ عدالت اس رویے پر مایوس بھی نظر آئی۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران مقامی نجی ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز کرنے والے اینکرز بھی موجود تھے جو عدالتی کارروائی کے بعد سپریم کورٹ کی کوریج کرنے والے رپورٹرز سے عدالتی کارروائی کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرتے رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں