’توہین مذہب کے الزامات کا مقصد عوام کی ہمدردانہ رائے کو متاثر کرنا‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں حالیہ دنوں جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے بلاگرز اور سماجی کارکنوں کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس ٹویٹر اور فیس بک پر ان کے مبینہ اکاؤنٹس کی بعض پوسٹس شیئر کرتے ہوئے توہین مذہب کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تاہم ان کے اہل خانہ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

لاپتہ بلاگرز کی فوری بازیابی قومی مفاد میں ہے، ایچ آر سی پی

لاپتہ بلاگرز: انسانی حقوق کے کمیشن کا وزارتِ داخلہ کو نوٹس

پاکستان میں گمشدہ بلاگرز کی رہائی کے لیے مظاہرے

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر سرگرم پانچ بلاگرز، جن میں وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا، سلمان حیدر اور ثمر عباس لاپتہ ہو گئے تھے۔ یہ بلاگرز لاہور، شیخوپورہ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے۔

جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے وقاص گورایہ اور سلمان حیدر کے اہل خانہ نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے توہین مذہب کے الزامات کو رد کیا ہے۔

سلمان حیدر کے بھائی فراز حیدر نے حکومت سے سلمان حیدر کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا 'وہ سوشل میڈیا پر جاری من گھڑت اور بے بنیاد مہم کی نفی کرتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا 'اس (مہم) سے صرف سلمان ہی نہیں بلکہ ان سے متعلقہ دیگر افراد کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔'

انہوں نے کہا 'سلمان حیدر کو لاپتہ ہوئے دو ہفتے گزر گئے، مگر یہ خبر تک نہیں کہ وہ بخیریت ہیں'۔

فراز حیدر نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایات کے بعد پولیس نے ان سے رابطہ کیا تھا اور تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

پریس کانفرنس سے قبل وقاص گورایہ کی اہلیہ میشا سعید نے بی بی سی کو بتایا 'انھیں اپنے بیٹے، دیگر اہل خانہ اور اپنے شوہر کی زندگی کی فکر لاحق ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اسلام پر کامل یقین رکھنے والوں پر توہین مذہب کے الزامات نہایت تکلیف دہ ہیں۔

میشا سعید کا کہنا تھا: 'مجھے فیس بک پر کافی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ میں اپنے شوہر کی حمایت کرنا چھوڑ دوں جب کہ میرے سسر کو لاتعداد فون کالز اور پیغامات دیے جا رہے ہیں کہ وہ بھی اپنے بیٹے کا ساتھ نہ دیں۔'

لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے یہ بھی کہا’ایک ایسے مشکل وقت میں جبکہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں، بغیر کسی ثبوت کے ایسے خطرناک اور بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور اہلِ خانہ کو دھمکیوں اور بدکلامی کا نشانہ بنانا صرف ایک ایسی مہم معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد ان افراد کے بارے میں عوام کی ہمدردانہ رائے کو متاثر کرنا ہے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا کہ انھوں نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین کو درخواست دی ہے کہ ان بلاگرز پر 'سوشل میڈیا اور بعض ٹی وی چینلز پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کا نوٹس لیا جائے'۔

اس سے پہلے انسانی حقوق کمیشن نے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے عزیزوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شکایت کمیشن سے کریں تاکہ متعلقہ اداروں کو تحقیق کے بعد کارروائی کرنے کا حکم دیا جا سکے۔

فیس بک اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر گذشتہ ایک ہفتے سے ان ہینڈلز کی پرانی پوسٹس شیئر کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ہینڈل لاپتہ ہونے والے بلاگرز کے تھے۔

اس سے پہلے پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے پانچ لاپتہ سماجی اورسوشل میڈیا کے کارکنان کی گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر فاطمہ جناح یونیورسٹی کے پروفیسر اور شاعر سلمان حیدر کی گمشدگی کا موضوع پاکستان میں ’ریکور سلمان حیدر' کے ہیش ٹیگ کے نام سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔

اسی بارے میں