سول سوسائٹی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں میں تصادم

مظاہرہ

کراچی میں جمعرات کی شام سول سوسائٹی کی تنظمیوں اور سنی مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے کارکنوں کا تصادم ہو گیا، جس میں ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کے علاوہ پتھراؤ بھی کیا گیا۔

لاپتہ بلاگرز سلمان حیدر، وقاص گورایہ اور عاصم سعید کی جبری گمشدگی کے خلاف انسانی حقوق کمیشن، طلبہ اور مزدور تنظیموں کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے جمعرات کو احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اعلان کے مطابق مظاہرین کو، جن کی قیادت انسانی حقو ق کے رہنما اسد بٹ، شیما کرمانی اور پروفیسر ریاض احمد کر رہے تھے، پریس کلب کی طرف مارچ کرنا تھا۔

اس مظاہرے کے جواب میں سنی جماعتوں کے اتحاد تحریک لبیک یا رسول اللہ نے جمعرات کو اسی وقت پریس کلب سے آرٹس کونسل کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کر دیا۔ پولیس نے دونوں جماعتوں سے رابطہ کرکے سول سوسائٹی کو آرٹس کونسل اور مذہبی جماعتوں کو پریس کلب تک محدود رہنے کا سمجھوتہ کیا۔

تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنوں نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں سلمان حیدر، وقاص گواریہ اور عاصم سعید کے خلاف توہینِ مذہب کے الزام میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

’بلاگرز پر مقدمات قائم کرنے کی خبروں میں صداقت نہیں ہے‘

’الزامات کا مقصد عوام کی ہمدردانہ رائے کو متاثر کرنا‘

لاپتہ بلاگرز: انسانی حقوق کے کمیشن کا وزارتِ داخلہ کو نوٹس

تین درجن لوگوں پر مشتمل اس احتجاج کے اختتام سے قبل ایک رہنما نے اٹھ کر کہا: 'رسالت کے پروانو، پولیس تمھارا راستہ نہیں روک سکتی، آگے بڑھو۔' جس کے بعد یہ کارکن آرٹس کونسل کی طرف روانہ ہوگئے۔

پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین کو سول سوسائٹی کے کارکنوں کی طرف بڑھنے سے روک دیا اور یہ فاصلہ صرف چند قدم تک محدود تھا، اسی دوران مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے نعرے بازی بھی کی جبکہ بعض لوگوں نے پتھراؤ بھی کیا جس سے سول سوسائٹی کے کارکنوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس نے مداخلت کرکے کچھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

انسانی حقوق کمیشن کے صدر اسد اقبال بٹ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ پر امن طور پر ریلی کی شکل میں پریس کلب جانا چاہتے تھے تاہم وہاں ایک مذہبی تنظیم کا مظاہرہ ہورہا تھا جس پر پولیس نے ان کے مظاہرے کو آرٹس کونسل تک محدود کر دیا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ مذہبی گروپ کے کارکنوں نے مظاہرین پر پتھراؤ کیا جس کے باعث کچھ لوگ معمولی زخمی ہو گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کرایا جائے اور مذہبی انتہا پسندی کی سوچ رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک نسواں کی رہنما اور نامور کتھک ڈانسر شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے۔ ’ایسا نہ ہو کہ ہم لکھیں اور پابند سلاسل کر دیا جائے، ایسے اقدامت کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں۔‘

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ریاض احمد کا کہنا تھا کہ ’اس احتجاج سے حکومت کے ساتھ مذہب کے ٹھیکیدار بھی لال پیلے ہو رہے ہیں، پولیس کے ساتھ مل کر خواتین پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ان پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں