’بچی سے زیادتی‘: مقدمہ درج، چیف جسٹس کا نوٹس

کراچی پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پولیس نے کراچی میں سات سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور تشدد کا مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

ابراہیم حیدری تھانے کے سب انسپیکٹر امانت فیروز کی مدعیت میں جنسی زیادتی اور تشدد کے الزام میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

'جو بِکتا ہے، وہ دِکھتا ہے‘

’اعتماد کی بحالی میں کئی سال لگ گئے‘

مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ جمعرات کو دوپہر تین بجے کے قریب ایدھی رضاکار نے اطلاع دی کہ برساتی نالے سے انھیں زخمی حالت میں ایک بچی ملی ہے جس کا گلہ کٹا ہوا ہے اور وہ بے ہوش ہے۔

پولیس بچی کو لے کر جناح ہپستال پہنچی جہاں ابتدائی معائنے میں یہ معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے۔ اس کا گلا کٹا ہوا تھا جب کہ بائیں بازو پر بھی تشدد کا نشان ہے۔

سول ہپستال میں زیر علاج سویرا کو اب ٹراما سینٹر سے وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ذوالفقار سیال کا کہنا ہے کہ جب سویرا کو ہپستال لایا گیا تھا تو وہ بے ہوش تھیں تاہم اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سویرا کے گلے کا آپریشن کردیا گیا ہے اور مزید طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق سویرا کورنگی کی رہائشی ہیں اور وہ اپنے والدین کی غیرموجودگی میں گھر سے باہر نکل گئیں۔

ادھر تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل نے بچی کے ورثا کی تلاش شروع کر دی ہے۔

حلیم عادل نے بتایا کہ انھوں نے سویرا کی تصاویر کے پمفلٹ بنوائے اور مقامی افراد اور رضاکاروں میں تقسیم کیے۔ وہ اس سکول میں بھی گئے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ سویرا وہاں پڑھتی ہیں۔

تحریکِ انصاف کے رہنما کے مطابق انھوں نے بچی کے والدین کا پتہ لگا لیا ہے جو لیبر کالونی کے رہائشی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مبینہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی سات سالہ بچی کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں