پاناما لیکس:’عدالت کے سامنے مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں‘

سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والی پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا ذاتی الزامات کا جواب دینے کے لیے اسمبلی کا فورم استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جمعے کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جب قومی اسمبلی میں تقریر کی تو کیا یہ بات کوئی اسمبلی کے ایجنڈے پر پہلے سے موجود تھی جس پر جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے کہا کہ میاں نواز شریف کی اسمبلی میں تقریر معمول کی کارروائی نہیں تھی۔

’جھوٹ بولنے پر‘ نواز شریف کے خلاف اپوزیشن کی تحریک استحقاق

پاناما لیکس:’کالے دھن کو سفید کرنے کی کوشش تو نہیں کی گئی؟‘

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر میں کوئی حکومتی پالیسی کا اعلان نہیں کیا تھا بلکہ ایک رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے اُن پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی ایسا ضابطہ اخلاق ہے جس میں کوئی شخص وزیراعظم کا عہدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ کوئی کاروبار نہیں کر سکتا۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل نے استثنیٰ نہیں مانگا بلکہ قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کو دیے گئے آئینی استحقاق کی بات کی گئی ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریر اپنے کاروبار کی وضاحت نہیں بلکہ اعترافی بیان ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ کہ لندن میں فلیٹ سنہ 1993 سے سنہ 1996کے دوران خریدے گئے تھے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نےجماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ بات کہاں مانی گئی ہے کہ فلیٹ مذکورہ عرصے کے دوران خریدے گئے تھےاگر ایسا ہوتا تو ہم ان درخواستوں کو اتنے دنوں سے کیوں سن رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان فلیٹوں کی ملکیت اور منی ٹریل کے ثبوت پیش کرنا میاں نواز شریف کی ذمہ داری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کو درست مان لیا جائے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ فلیٹ وزیراعظم کے خاندان کی ملکت ہیں تاہم ابھی تک عدالت میں ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ یہ فلیٹ میاں نواز شریف کی ملکیت ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سنہ1980میں اتفاق فونڈری خسارے میں تھی اور پھر تین سال کے بعد اس فیکٹری سے 60کروڑ روپے کا منافع حاصل کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن اور اپنے گوشواروں میں لندن کے فلیٹس کا ذکر نہیں کیا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے اُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔

اُنھوں نے کہاکہ اس تقریر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بیرون مالک کاروبار کے لیے رقم کہاں سے حاصل کی گئی۔

بینچ کے سربراہ نے جماعت اسلامی کے وکیل سے کہا کہ وہ وزیراعظم کی تقریر میں پائے جانے والے تضادات کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں جس پر توفیق آصف نے کہا کہ وہ اس پر تو دلائل نہیں دیں گے البتہ آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن تین کے تحت سپریم کورٹ کے دائرہ سماعت پر بات کریں گے۔

ان درخواستوں کی سماعت 23جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں