چارسدہ یونیورسٹی حملے کے ایک سال بعد

سمیع اللہ
Image caption سمیع اللہ چارسدہ یونیورسٹی پر حملے میں زخمی ہو گئے تھے

سمیع اللہ کے چہرے میں پیوست گولی اگر نکالی گئی تو یا ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو سکتی ہے یا دماغ مفلوج ہو سکتا ہے، اس لیے سمیع اللہ ایک سال سے اس گولی کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

باچا خان یونیورسٹی کے ایم اے انگلش کے طالبعلم سمیع اللہ کو ایک سال پہلے یونیورسٹی پر حملے کے دوران تین گولیاں لگی تھیں۔ ایک گولی چہرے پر لگی جو اب بھی دائیں کان کے ساتھ موجود ہے۔

باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر شدت پسندوں کے حملے کو آج ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ گذشتہ سال آج ہی کے دن صبح کے وقت چار شدت پسند یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد دھماکے بھی ہوئے۔ اس حملے میں 14 طلبہ سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گولی لگنے سے سمیع اللہ کی قوت گویائی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اب اس کی بات کم ہی سمجھ میں آتی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کے حملے کو ایک سال ہوگیا ہے۔

سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ ’جس وقت حملہ ہوا اس وقت میں اپنے ہاسٹل کے کمرے میں دوستوں کے ساتھ موجود تھا، حملے میں باقی تمام ساتھی ہلاک ہو گئے صرف میں ہی زخمی ہوا تھا۔‘

سمیع اللہ نے کہا ’شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایک گولی میرے چہرے پر لگی تھی جس سے میرے دانت نہیں رہے۔ گولی اب بھی میرے دائین کان کے قریب موجود ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میرا علاج یہاں پاکستان میں ممکن نہیں ہے، اس کے لیے مجھے باہر لے جانا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سمیع اللہ ایک سال سے اس تکلیف میں مبتلا ہیں جس سے انھیں درد بھی ہوتا ہے اور وہ دو منٹ سے زیادہ بات نہیں کر سکتے۔

سمیع اللہ کے دوست نصیر اللہ نے بتایا کہ سمیع اللہ کی باتوں کی سمجھ مشکل سے آتی ہے ان کے علاج کے لیے وائس چانسلر نے وزیر اعظم، وزیر داخلہ، اور دیگر اعلیٰ حکام کو خطوط بھی لکھے لیکن کوئی جواب نہیں آیا ۔

آج یونیورسٹی میں دعائیہ تقریب منعقد ہوئی قران خوانی کی گئی جس کے بعد تقریب سے مہمانان گرامی نے خطاب کیا۔

اس تقریب میں شرکت کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے دعوت نامے تو وزیر اعظم، آرمی چیف کے علاوہ وفاقی وزرا، صوبائی وزیر اعلیٰ اور گورنرخیبر پختونخوا کو جاری کیے گئے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا۔ صرف ایک رکن صوبائی اسمبلی شوکت یوسف زئی ہی اس تقریب میں شرکت کر پائے۔

تقریب کے دوران جب شوکت یوسف زئی نے طلبہ کے تمام مطالبات تسلیم کرنے اور زخمی طالب علم کے علاج کی یقین دہانی کرائی تو طلبہ کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد بھی یہی وعدے کیے گئے اور اب ایک مرتبہ پھر وہی باتیں دہرائی جا رہی ہیں۔ اس پھر طلبہ مشتعل ہو گئے اور شوکت یوسفزیی تقریب سے چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک سال قبل ہونے والے اس دہشت گرد حملے میں 18 افراد ہلاک ہوئے تے

یونیورسٹی پر حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے طلبہ، ان کے والدین، اور اساتذہ بھی حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے نالاں نظر آتے ہیں۔ طالبعلم محمد باسط خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھ جو وعدے کیے گئے تھے ان پر عمل نہیں کیا گیا جس وجہ سے طلبہ غصے میں ہیں۔

باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے ترجمان سعید خان خلیل نے کہا کہ تقریب پر امن ماحول میں منعقد ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایک سال میں یونیورسٹی میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر کی گئی ہے۔

یونیورسٹی کے طلبہ کو یہی شکایت رہی ہے کہ جس طرح آرمی پبلک سکول کے طلبہ کو پیکجز دیے گئے اس طرح باچا خان یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ کچھ نہیں ہوا، اور انھیں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں