سندھ اسمبلی: ’چیمبر میں آئیں‘ وزیر کے تخاطب پر خاتون رکن ناراض

Image caption امداد پتافی نے نصرت سحر عباسی کو مخاطب ہوکر کہ ’ڈرامہ کوئین آپ بیٹھ جائیں میں آپ کو جواب دیتا ہوں‘

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں انگریزی میں سوال کا جواب دینے پر صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز امداد پتافی ناراض ہوگئے، انھوں نے خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کو کہا کہ وہ چئمبر میں آئیں تو وہ انھیں وہاں جواب دیں گے۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وقفۂ سوالات کے دوران اپوزیشن جماعت مسلم لیگ فنکنشل کی رکن نصرت سحر عباسی نے وزیر ورکس اینڈ سروسز امداد پتافی کو کہا کہ وہ انگریزی میں ان کے سوال کا تحریری جواب پڑھ کر سنائیں۔

امداد پتافی نے سوال کا جواب پڑھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس کے پابند نہیں اور ڈکٹیشن پر نہیں چلیں گے، جس پر نصرت سحر نے انھیں کہا کہ یہ ان کا حق ہے کہ وہ سوال پوچھیں اور یہ اسمبلی قوانین کے مطابق ہے۔

ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے امداد پتافی کو ہدایت کی کہ وہ اس جواب کو پڑھیں اور ساتھ میں رکن صوبائی اسمبلی نواب تیمور تالپور کو تاکید کی کہ وہ اپنی نشست پر خاموش بیٹھیں۔ نصرت سحر نے کہا کہ انھیں مداخلت سے روکا جائے، اسپیکر نے انھیں جواب دیا کہ وہ مستقل انھیں منع کر رہی ہیں لیکن اس طرف سے وہ مسلسل ان کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

امداد پتافی نے نصرت سحر عباسی کو مخاطب ہو کر ’ڈرامہ کوئین آپ بیٹھ جائیں میں آپ کو جواب دیتا ہوں۔‘

انھوں نے اسپیکر کو مخاطب ہوکر کہا ’میڈم رسی جل گئی لیکن بل نہیں گیا ایک ہی بچی ہے اور تو کوئی بچا نہیں اس کو صرف اخبار میں آنا ہے تاکہ اس کا فوٹو شائع ہو ۔ یہ اسمبلی کی ڈرامہ کوئن ہے اس کو ہر صورت میں ٹی وی پر آنا ہے۔‘

پتافی کے ان جملوں پر نصرت عباسی احتجاج کرتی رہیں جب کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور دیگر صوبائی وزرا مسکراتے رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما نواب یوسف ٹالپور کے فرزند نواب تیمور اپنے دوست امداد پتافی کے تحفظ کے لیے بار بار اپنی نشت سے کھڑے ہو جاتے جس پر اسپیکر انھیں بار بار تاکید کرتی رہیں کہ نصرت سحر کا بھی مائیک بند ہے آپ بیٹھ جائیں، اسپیکر نے امداد پتافی کو مخاطب ہوکر کہہ کہ منسٹر صاحب آپ برائے مہربانی اس کو پڑھ کر سنا دیں۔

امداد پتافی نے اسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ بیٹھیں گی تو میں پڑھ کر سنادوں گا یا تو میرے چیمبر میں آجائیں وہاں پڑھ کر سنا دوں۔ اسپیکر نے انھیں کہا کہ خاتون ممبر ہے اس طرح تنگ نہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption پتافی کے ان جملوں پر نصرت عباسی احتجاج کرتی رہیں جب کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور دیگر صوبائی وزرا مسکراتے رہے

صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ وہ نصرت سحر عباسی کے کہنے پر جواب نہیں پڑھیں گے تاہم اسپیکر کے حکم پر پڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے بعد میں ٹوٹی پھوٹی انگریز میں جواب پڑھا، اس دوران نواب تیمور ڈیسک بجا کر ان کی ہمت افزائی کرتے رہے جب کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اپنی نشست پر یہ دیکھ اور سن کر مسکراتے رہے۔

نصرت سحر عباسی نے اسپیکر کو مخطاب ہوکر کہا کہ آپ بھی ایک خاتون ہیں وہ مسلسل بدتمیزی کرتا رہا۔

’چمبر میں آپ اپنی ماؤں بہنوں کو بلائیں، آپ جس طرح بات کرتے ہیں بجائے اس کے کوئی سینیئر ممبر کھڑا ہو کر اس کی مذمت کرے یہ کونسا طریقہ ہے کہ چیمبر میں آئیں۔‘

’یہ اجلاس بھی چیمبر میں بلوائیں یہ جملے قابل مذمت ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت اس کا نوٹس لے کہ خواتین کو کیوں کہا جاتا ہے کہ چیمبر میں آؤ یہ معنی خیز جملے پورے دنیا سن رہی ہے۔ ‘

نصرت سحر عباسی کے اس احتجاج کے دوران ہی اسپیکر شہلا رضا نے اجلاس ملتوی کردیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں