بلوچستان: گوادر میں پانی کی شدید قلت

تصویر کے کاپی رائٹ Behram Baloch
Image caption خشک سالی کا فوری اثر گوادر میں گھریلو استعمال کے پانی کی قلت کے حوالے سے پڑا ہے کیونکہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ آکڑہ ڈیم مکمل طور پر خشک ہوگیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع شہر گوادر میں صاف پانی کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر سنگین ہوگیا ہے۔

بلوچستان کے بعض علاقوں میں گذشتہ ہفتے بارش اور برفباری کی وجہ سے کسی حد تک خشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے لیکن گوادر اور اس سے متصل مکران ڈویژن کے بعض علاقے اب بھی طویل خشک سالی سے دوچار ہیں ۔

خشک سالی کا فوری اثر گوادر میں گھریلو استعمال کے پانی کی قلت کے حوالے سے پڑا ہے کیونکہ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ آکڑہ ڈیم مکمل طور پر خشک ہوگیا ہے۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ اس وقت گوادر شہر اور اس کے نواحی علاقوں کو ٹینکروں کے ذریعے 160 کلومیٹر دور ضلع کیچ میں واقع میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Behram Baloch
Image caption بہرام بلوچ نے بتایا کہ اس وقت گوادر شہر اور اس کے نواحی علاقوں کو ٹینکروں کے ذریعے 160 کلومیٹر دور ضلع کیچ میں واقع میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے فی ٹینکر 10 سے 12 ہزار روپے کی ادائیگی کی جارہی ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سمندری پانی سے نمک نکالنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا تھا۔

بہرام بلوچ کے مطابق یہ ایک ارب روپے سے زائد کا منصوبہ تھا لیکن وہ پلانٹ ناکام ہوا۔

گوادر کے قریب پشکان کے علاقے کے رہائشی نورالامین نے بتایا کہ پانی کا مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ لوگوں کو معاش کی بجائے زیادہ پریشانی پانی کی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’دوسرے علاقوں کے لوگ صبح اٹھ کر اپنی معاش کا فکر کرتے ہیں لیکن گوادر کے لوگوں کو یہ فکر ہوتی ہے کہ وہ کہ پانی کا انتظام کہاں سے کریں۔‘

پشکان ہی سے تعلق رکھنے والے بابا آدم نے بتایا کہ پشکان کو پہلے روزانہ ڈیڑھ لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جاتا تھا لیکن آج کل 60 سے 70 ہزارگیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

گوادر کو پانی فراہم کرنے والے محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے ایس ڈی او نثاراحمد نے فون پر بتایا کہ گوادر میں لوگوں کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ 230 سے 240 ٹینکر میرانی ڈیم سے گوادر کے لیے پانی لاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں پانی کی طلب 25 لاکھ گیلن روزانہ ہے لیکن اس وقت گوادر شہر کو ٹینکروں کے ذریعے 12 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ گوادر میں پانی کی قلت کے مسئلے کو دور کرنے کے لیے ایک اور ڈیم مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ دوسرا ڈیم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Behram Baloch

اسی بارے میں