’ہمیشہ سے شراب پی رہے ہیں، مرے نہیں‘

دیسی شراب
Image caption 'ولنگ ویز' کے سربراہ ڈاکٹر صداقت علی کہتے ہیں کہ گذشتہ ڈھائی تین سالوں کےدوران شراب نوشی کے رجحان میں تیزی آئی ہے۔

پاکستان میں کچی یا زہریلی شراب پینے کی وجہ سے ہلاکتیں عام ہیں اور اعداد و شمار کے مطابق صرف سنہ 2016 کے دوران جہاں ایسے واقعات میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے وہیں تشویش ناک حالت میں ہسپتال لے جائے جانے والے افراد کی تعداد بھی 100 سے زیادہ ہی تھی۔

گذشتہ برس شراب نوشی کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بڑے واقعات ٹنڈو محمد خان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، یوحنا آباد ، لیاقت آباد، پشاور اور جہلم میں پیش آئے۔

پشاور کے رہائشی سردار مسیح نے بھی رواں برس جنوری کے آغاز میں ہی اپنے تین بیٹے زہریلی شراب کی وجہ سے کھوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹوں نے جو شراب پی اُس میں کچھ ملا ہوا تھا۔ 'یہ شراب نہیں تھی۔ یہ کوئی سپرٹ تھی کہ کیا تھی۔۔۔ساری عمر ہوگئی شراب پی رہے ہیں، نہیں مرے ہیں۔ انھوں نے کوئی اور چیز پی ہے۔'

بیٹوں کی موت کے غم سے نڈھال سردار مسیح نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ تینوں کہیں باہر سے پی کے آئے اور گھر میں آ کے کہنے لگے کہ تکلیف ہورہی ہے۔ ہم ہسپتال لے کرگئے اور وہاں سے لاشیں لے کر آئے۔'

Image caption عمومی طور پر بندش اور درآمد کی گئی شراب مہنگی ہونے کی وجہ سے دیہاتی اور غریب افراد گھروں اور نجی بھٹیوں میں تیار کی گئی غیر معیاری شراب استعمال کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دیسی طریقوں سے بنائی گئی شراب ناقص اور غیر معیاری اجزا سے تیار کی جاتی ہے جو بعض اوقات مہلک ثابت ہوتی ہے۔

اسلام آباد کے ہسپتال 'پمز' کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ 'سستی شراب بنانے کے لیے اکثر میتھیلیٹڈ سپرٹ کا استعمال کرتے ہیں یا پھرگنے کے رس میں اسے ملاتے ہیں۔ عموماً اس سپرٹ کی مقدار زہر کی حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ ایک تو ویسے بھی وہ (میتھیلیٹڈ سپرٹ) اوزار صاف کرنے یا جسم کے اوپر لگے زخم صاف کرنے کے لیے ہوتی ہے پینے کے لیے نہیں پھر اس میں وہ نیند آور گولیاں بھی ڈال دیتے ہیں۔'

یہ سپرٹ جسم میں جا کر کیسے کام کرتی ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایاکہ 'یہ سپرٹ جسم میں جاتے ہی دماغ کے مختلف حصوں کو بند کردیتی ہے۔ اس میں اکثر سب سے پہلے سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے نظامِ تنفس کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، آکسیجن ان کے تمام ٹشوز تک نہیں پہنچتی اور دماغ، دل، گردے اور جگر کام کرنا بند کر دیتے ہیں اوراگر یہ نہ بھی ہو تو جگر کو تو ضرور نقصان پہنچتا ہے۔'

واضح رہے پاکستان میں غیر مسلموں اور سفارت کاروں کو شراب پینے کی اجازت ہے جن کے لیے شراب بنانے کے کارخانے بھی ہیں اور بیرون ملک سے شراب درآمد بھی کی جاتی ہے۔

Image caption ساری عمر ہوگئی شراب پی رہے ہیں، نہیں مرے ہیں۔ انھوں نے کوئی اور چیز پی ہے: سردار مسیح

تاہم عمومی طور پر بندش اور درآمد کی گئی شراب مہنگی ہونے کی وجہ سے دیہاتی اور غریب افراد گھروں اور نجی بھٹیوں میں تیار کی گئی غیر معیاری شراب استعمال کرتے ہیں۔

کرسمس، سالِ نو، ہولی، یا پھر عید جیسے تہواروں کے دوران شراب کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور انھی گوداموں میں پڑی ناقص اور غیر مناسب طریقے سے بنائی گئی شراب ایسے خریداروں کو فروخت کر دی جاتی ہے۔

پاکستان میں شراب نوشی کی لت میں مبتلا افراد کی بحالی کے سینٹر 'ولنگ ویز' کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ افراد شراب نوشی کرتے ہیں جن میں تمام مذاہب اور معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والےافراد شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق ان میں سے 10 لاکھ افراد ایسے ہیں جو کہ الکوحلک یا شراب کے عادی ہیں۔

'ولنگ ویز' کےسربراہ ڈاکٹر صداقت علی کہتے ہیں کہ گذشتہ ڈھائی تین سالوں کےدوران شراب نوشی کے رجحان میں تیزی آئی ہے البتہ اس حوالے سے تازہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

Image caption طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دیسی طریقوں سے بنائی گئی شراب ناقص اور غیر معیاری اجزا سے تیار کی جاتی ہے جو بعض اوقات مہلک ثابت ہوتی ہے۔

انھوں نے تعلیمی اداروں میں اس رجحان کے فروغ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جتنا اچھا سکول، کالج یا یونیورسٹی ہے وہاں اُتنا ہی زیادہ رجحان ہے منشیات کا، الکوحل کا اور ان کا اُتناہی بیڑا غرق ہے جتنا بڑا ادارہ یا اُس کا تاثر۔'

صداقت علی کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'پاکستان میں شادی کی تقریبات اور خوشی کے مواقع پر بھی اب عام طور پر شراب پیش کی جاتی ہے۔ اس دوران ڈانس پریکٹس وغیرہ کے ساتھ ساتھ شراب چل رہی ہوتی ہے۔ بزرگ اُس سے چشم پوشی کرتے ہیں۔'

ماہرین کے خیال میں پاکستان میں زہریلی شراب نوشی کے معاملے سے نمٹنے میں سب سے بڑا مسئلہ اس بات سے انکار ہے کہ ملک میں بہت سے لوگ شراب پیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں زہریلی شراب کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی جانب توجہ نہیں دی جاتی جو دنیا بھر میں عام ہیں۔

ان کے خیال میں اس سلسلے میں مناسب پالیسی اختیار کر کے ان غیر ضروری اموات کو روکا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں