’وکیل صاحب کچھ تو پڑھ کر آیا کریں‘

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جماعت اسلامی کے وکیل پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی گذشتہ تین سماعتوں کے دوران دلائل دے رہے ہیں

پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل کے لیے منگل کا روز بھی کسی کڑے امتحان سے کم نہیں تھا۔

سماعت شروع ہوتے ہی جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے ظفر علی شاہ کے مقدمے کا دوبارہ حوالہ دینے شروع کیے جس کے بارے میں وہ چند روز قبل اپنے دلائل واپس لے چکے تھے۔

’ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے‘

جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ظفر علی شاہ کیس میں خالد انور وزیراعظم محمد نواز شریف کے وکیل تھے۔ اس پر بینچ میں موجود عظمت سعید کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نواز شریف فریق ہی نہیں تھے تو پھر اُن کا وکیل کیسے مقرر ہوگیا اس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ وہ درخواست گزار یعنی ظفر علی شاہ کے وکیل تھے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ خالد انور تو درخواست گزار کے بھی وکیل نہیں تھے۔

توفیق آصف کا کہنا تھا کہ عدالت اگر مجھے پانچ منٹ دے تو درست حقائق بینچ کے سامنے رکھوں گا۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے کچھ توقف کے بعد جواب دیا ’مائی لارڈز خالد انور نے اس مقدمے میں نواز شریف کا دفاع تو ضرور کیا تھا۔‘ بینچ میں موجود اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب خالد انور کے پاس نواز شریف کا وکالت نامہ ہی نہیں تھا تو پھر اُنھوں نے نواز شریف کا دفاع کیسے کیا۔

جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ تو پڑھ کر آیا کریں۔ آپ مختلف مقدمات میں وکلا کی طرف سے کی گئی بحث کا ذکر کرتے ہیں لیکن ان مقدمات میں جو فیصلے ہوئے اس کی جانب نہیں آتے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ التوفیق کیس میں برطانوی عدالت یا پاکستان کی سپریم کورٹ نے لندن فلیٹس کے بارے میں کوئی فائنڈنگز نہیں دیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ التوفیق کیس میں لندن کے فلیٹس کو گروی رکھا گیا تھا اس پر عدالت نے اُن سے استفسار کیا کہ اگر اس بارے میں ان کے پاس ریکارڈ ہے تو عدالت میں پیش کریں۔

جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریکارڈ تو اُن کے پاس نہیں ہے البتہ اگر عدالت وزیر اعظم کو طلب کرے تو وہی اس بارے میں جواب دے سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

توفیق آصف نے صرف اِسی پر ہی بس نہیں کی بلکہ یہ بھی کہہ دیا کہ جب ان فلیٹس کو گروی رکھوایا گیا تھا تو محمد نواز شریف نے اس کا قرضہ ادا کیا۔ بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل سے کہا کہ ’بھائی صاحب جب یہ مقدمہ لندن کی عدالت میں چل رہا تھا تو نواز شریف پاکستان کی جیل میں قید تھے۔ تو پھر اُنھوں نے بقول آپ کے اس کا قرضہ کیسے ادا کیا۔‘

جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’یہی تو پتا کرنا ہے مائی لارڈ کہ وہ قرضہ کس نے ادا کیا تھا۔‘

جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ ’آپ نے تو اس مقدمے کو مذاق ہی بنایا ہوا ہے۔‘

توفیق آصف کا کہنا تھا کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ عدالت اُنھیں سننا نہیں چاہتی جس پر عظمت سعید نے کہا کہ عدالت اُنھیں گیارہ سال تک سن سکتی ہے لیکن کم از دلائل تو ٹھیک دیں۔

بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے جماعت اسلامی کے وکیل سے کہا کہ ظفر علی شاہ کیس کی کتاب بند کردیں۔

توفیق آصف نے اپنے دلائل ختم کیے تو جماعت اسلامی کے ہی وکیل شیخ احسن الدین نے اپنے دلائل شروع کر دیے جس پر پانچ رکنی بینچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ روایت نہیں ہے کہ ایک ہی درخواست گزار کا وکیل اپنے دلائل مکمل کرنے کے بعد اسی درخواست گزار کا دوسرا وکیل اپنے دلائل شروع کر دے۔

جماعت اسلامی کے دوسرے وکیل شیخ احسن الدین نے عدالت کو تجویز دی کہ ان درخواستوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سپین میں رائج طریقہ کار کو اپنایا جائے جہاں پر لوگوں پر تشدد کر کے بیانات لیے جاتے ہیں۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس طرف نہ لے کر جائیں جہاں پر ہمارے ہاتھ پاؤں پھول جائیں۔‘

جماعت اسلامی کے وکیل نے ’زیر کفالت‘ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص کسی دوسرے کا سہارا لے یا تائید حاصل کرے تو وہ زیر کفالت ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے جماعت اسلامی کے وکیل شیخ احسن الدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پھر تو توفیق آصف آپ کے زیر کفالت ہوئے کیونکہ اُنھوں نے اس مقدمے میں آپ کا سہارا لیا ہے۔‘

جج کے ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں ایک زور دار قہقہ بلند ہوا۔

جماعت اسلامی کے وکیل کی طرف سے دیے گئے دلائل پر اُن کی حلیف جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک دھڑے کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ آیا جماعت اسلامی اُن کے ساتھ ہے یا پھر حکومت کے۔

جماعت اسلامی کے وکیل پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں پر گذشتہ تین سماعتوں کے دوران دلائل دے رہے ہیں اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سنیئیر وکیل نعیم بخاری کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں