افغان پناہ گزینوں کے لیے ایس ایم ایس ٹیکنالوجی

یو رپورٹ پاک آواز تصویر کے کاپی رائٹ U-Report Pakavaz

پاکستان میں نوجوان افغان پناہ گزینوں کی آواز سننے اور انھیں بااختیار بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف اور یو این ایچ سی آر نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت موبائل فون کی پیغامات کی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے گا۔

یہ ایس ایم ایس یا پیغامات کی ٹیکنالوجی پاکستان میں پہلے سے کام کر رہی ہے لیکن اب اس کا دائرہ کار نوجوان افغان پناہ گزینوں تک بڑھا دیا گیا ہے اور اس ٹیکنالوجی کے تحت وہ مختلف سروے یا مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے مسائل بھی ارباب اختیار تک پہنچا سکیں گے۔ اس ٹیکنالوجی نام یو رپورٹ پاک آواز رکھا گیا ہے۔

یونیسف میں اس منصوبے کی مینیجر حرا حفیظ نے بی بی سی کو بتایا کہ یو رپورٹ پاک آواز ایک ایسا نظام ہے جس میں کسی بھی موبائل فون سے نوجوان اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت اب تک ان کے پاس 25 ہزار لوگ رجسٹرڈ ہیں اور جو سروے وہ کرتے ہیں اس کا ڈیٹا ان کی ویب سائٹ پر شائع کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا رد عمل فوری طور پر سامنے آ جاتا ہے اور لوگ بڑی آسانی سے بڑی تعداد میں اس میں شرکت کرتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت 13 لاکھ کے قریب افغان پناہ گزین ہیں جس میں اقوام متحدہ کے مطابق 64 فیصد نوجوان ہیں۔

حرا حفیظ نے بتایا کہ موبائل فون کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور اس میں نوجوان زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اس لیے افغان پناہ گزینوں کو پالیسی سازی میں شریک کرنے کے لیے ان کی آواز سننا ضروری ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نوجوان اپنی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر بات کرتے ہیں لیکن انھیں معومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یو رپورٹ پاک آواز میں رجسٹریشن کے لیے 8623 پر مفت پیغام بھیجنا ہوتا ہے جس کے بعد صارف کو رجسٹر کر لیا جاتا ہے، اور پھر وہ مختلف سرویز میں شریک ہو کر اپنے مسائل بیان کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس بارے میں پاکستانی اور افغان نوجوانوں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اصل بات مسائل کا حل ہے، چاہے وہ جس طریقے سے بھی حل کیے جائیں۔

پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے 31 دسمبر 2017 کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جا چکا ہے جبکہ اس سے پہلے ان کے لیے اسی سال 31 مارچ کا تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ گذشتہ چند ماہ میں بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں ۔

افغان پناہ گّزین اس وقت بھی مشکلات کا شکار ہیں لیکن چند ماہ پہلے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا تھا جب واپسی کے اعلان کے ساتھ ہی پولیس اہلکاروں نے ان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی تھیں، تعلیمی ادارے بند ہو رہے تھے، صحت کی سہولیات محدود ہو رہی تھیں، خوراک کی قلت سے کیمپوں میں مشکلات بڑھ گئی تھیں جبکہ سردی اور گرمی سے بچاؤ کے لیے تحفظ نہ ہونے کے برابر ہو گیا تھا۔

اب یہ ٹیکنالوجی کتنی اور کتنے عرصے تک پناہ گزینوں کے لیے موثر ہو سکے گی یہ وقت ہی بتائے گا۔

اسی بارے میں