یوسین بولٹ کا ایک طلائی تمغہ چھن گیا

بولٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2008 میں بیجنگ اولمپکس میں نیسٹا کارٹر 4x100 ریلے دوڑ میں جمیکن ٹیم کا حصہ تھے

جمیکا کے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ یوسین بولٹ کو اپنے نو اولمپکس طلائی تمغوں میں سے ایک تمغہ واپس کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے ہم وطن ایتھلیٹ نیسٹا کارٹر پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔

سنہ 2008 میں بیجینگ میں منعقد ہونے والے اولمپکس میں نیسٹا کارٹر 4x100 ریلے دوڑ میں جمیکن ٹیم کا حصہ تھے۔

گذشتہ سال انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے نیسٹا کارٹر سمیت 454 کھلاڑیوں کا دوبارہ ڈوپنگ ٹیسٹ ہوا تھا جس سے یہ امر سامنے آیا کہ انھوں نے ممنوعہ دوا متھائل ہیکسنیمائن کا استعمال کیا تھا۔

گذشتہ سال ریو اولمپکس میں 30 سالہ یوسین بولٹ نے اپنا مسلسل نواں اولمپک طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔

اس سے قبل انھوں نے سنہ 2008 اور سنہ 2012 میں انھوں نے 100 میٹر، 200 میٹر اور 4x100 ریلے دوڑ میں طلائی تمغے جیتے تھے۔

31 سالہ نیسٹا کارٹر نے 2012 کے اولمپکس مقابلوں اور سنہ 2011، 2013 اور 2015 کے ورلڈ چیمپئین شب مقابلوں میں جمیکا کی ریلے ٹیم کو طلائی تمغے جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس کیس کا سب سے اہم پہلو یہ رہا ہے کہ ریلے ریس میں نیسٹا کارٹر کے ساتھی یوسین بولٹ، آسفا پاؤل اور مائیکل فریٹر تھے، جن پر ڈوپنگ کے الزامات نہیں ہیں۔

حالیہ فیصلے کے بعد ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو کو 2008 کے ریلے مقابلے کا فاتح قرار دیا گیا ہے جبکہ جاپان کو چاندی اور برازیل کو کانسی کا تمغہ مل گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں