’مریم نواز کا معاملہ عدالت کے دائرہ سماعت میں نہیں آتا‘

مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وزیر اعظم نواز شریف کے والد میاں شریف کی وراثتی جائیداد کی تقسیم سے متعلق تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

عدالت نے مریم نواز شریف کے وکیل سے کہا ہے کہ وہ اگلے دو روز میں اس کی تفصیلات عدالت مں جمع کروائیں۔

’ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے‘

’وکیل صاحب کچھ تو پڑھ کر آیا کریں‘

بدھ کو جب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو مریم نواز شریف کے وکیل شاہد حامد نے اپنی موکلہ کے بارے میں عدالت کے دائرہ سماعت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی موکلہ عام شہری ہیں اور یہ کوئی مفاد عامہ کا معاملہ نہیں ہے اس لیے اُن کی موکلہ کا معاملہ عدالت کے دائرہ سماعت میں نہیں آتا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کی موکلہ پر الزام ہے کہ وہ وزیر اعظم کی نمائندہ (فرنٹ مین) تھیں اس لیے بادی النظر میں اُن کی موکلہ کے خلاف دائر درخواستوں کو سنا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت پاناما لیکس سے متعلق دائر کی گئی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے چکی ہے۔

عدالت نے مریم نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے اپنی موکلہ کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں اپنے دستخط کیوں کیے ہیں جس پر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ انھیں اس کا مجاذ بنایا گیا تھا اس لیے اُنھوں نے اس پر دستخط کیے۔

سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل نے اپنی موکلہ کا بیان بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں اور جو ہے وہ اُن کے بھائیوں کی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے مریم نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ میاں شریف کی وفات کے بعد اُن کی جائیداد کا کیا بنا جس پر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ جائیداد کے بارے میں خاندان میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ نے مریم نواز کے وکیل سے پوچھا کہ ان کی موکلہ کے خاوند کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر الزام ہے کہ انھوں نے ٹیکس گوشواروں کے ساتھ اپنی اہلیہ کے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں جس پر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تمام تفصیلات کو سالانہ گوشواروں کے ساتھ لف کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی موکلہ ایک عام شہری ہیں اور اگر بیرون ملک ان کی جائیداد ہے بھی تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی یہ معاملہ مفاد عامہ کے زمرے میں آتا ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس ضمن میں تمام معاملات کو دیکھنا ہوگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے مریم نواز کے وکیل سے استفسار کیا کہ نواز شریف نے اپنے کاغزات نامزدگی میں کہا تھا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں جب کہ مریم نواز نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ رہتی ہیں، اس پر شاہد حامد نے عدالت کو جواب دیا کہ اُن کے موکلہ شادی کے بعد کبھی بھی اپنے والد کے زیر کفالت نہیں رہیں۔

اپنی موکلہ کے دستخط کے معاملے پر شاہد حامد نے عدالت سے کہا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے بینچ کے سامنے پیش کی گئی دستاویزات میں ان کی موکلہ کے دستخط جعلی ہیں۔ انہوں نے اپنی موکلہ کے دستخطوں کا ایک نمونہ عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ اگر عدالت چاہے تو اس بارے میں کسی ماہر کی خدمات حاصل کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے مریم نواز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مریم نواز لندن فلیٹس کی بینیفیشل ہیں جب کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ صرف ٹرسٹی ہیں، تاہم اس بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں