’بچوں کی حفاظت کے لیے قانون کا نہ ہونا قابل افسوس ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ اپنے بھائی کے ہمراہ عدالت میں آ رہی ہیں (فائل فوٹو)

دس سالہ کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی کی اہلیہ کی جانب سے مبینہ تشدد کے واقعے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کی حفاظت کے لیے کسی قانون کا موجود نہ ہونا قابل افسوس ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسے بچوں کے لیے قوانین نہ ہونے کی ذمہ دار عدلیہ پر نہیں بلکہ یہ قانون بنانے والوں کی غلطی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ بڑی پرشانی ہو رہی ہے کہ ایسے بچوں کو قانون تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

اُدھر اسلام آباد پولیس نے اس مقدمے میں ہونے والی تفتیش سے متعلق اپنی حتمی رپورٹ عدالت میں جمع کروادی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دس سالہ طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کمسن گھریلو ملازمہ کے جسم پر تشدد کے بیس سے زائد نشانات تھے۔

رپورٹ میں اہل محلہ کے بیانات بھی شامل ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طیبہ پر نہ صرف تشدد کیا جاتا تھا بلکہ اسے سردیوں کے کپڑے بھی فراہم نہیں کیے جاتے تھے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان اپنی اہلیہ کی طرف سے طیبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے اٹھارہ گھنٹے بعد بھی گھریلو ملازمہ کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال نہیں لیکر گئے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس معاملے کو بھی دیکھنا ہے کہ یہ بچے کہاں سے آتے ہیں اور ان بچوں کو نوکریاں کون دلواتا ہے۔

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اس مقدمے میں ایسا شخص بھی ملوث ہے جو عدلیہ کا حصہ ہے اور اس میں ملزمہ کی ضمانت ہوچکی ہے جو کہ ایڈشنل سیشن جج کی اہلیہ ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جب ایسے واقعات میں راضی نامے کو مسترد کر دیا گیا ہے تو پھر ان میں ملزمان کو دی گئی ضمانتوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں نئی دفعات لگانے کا بظاہر کوئی حکم تو جاری نہیں کیا تاہم عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کمسن بچی پر ہونے والے تشدد کے مقدمے میں نئے جرائم کی قانونی دفعات کا اضافہ بھی کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے اس مقدمے میں بچوں کی سمگلنگ کے جرم کی دفعات کا بھی اضافہ کیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ پولیس اس مقدمے میں اُن افراد کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے جو ایسے بچوں کو دوردراز علاقوں سے لا کر مختلف گھروں میں نوکریاں دلواتے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر طیبہ کے کیس میں عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا تو کل نئی درخواستیں بھی آجائیں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت اس معاملے پر جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتی۔

چیف جسٹس کے استفسار پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ماہین ظفر کے خاوند راجہ خرم علی عدالت میں پیش نہیں ہوئے کیونکہ اُنھیں اس ضمن میں نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کو کام سے روک دیا گیا ہے اور اُن کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔