’قطری شہزادے کا ایک اور خط‘

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سماعت کے دوران مریم نواز شریف کے وکیل نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ حزبِ مخالف کی کچھ جماعتوں نے محض سیاسی بنیادوں پر وزیر اعظم کے خلاف آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ سیاسی نہیں بلکہ دشمنی کا معاملہ ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ میں پاناما لیکس دستاویزات کے بارے میں دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت جمعرات کے روز بھی جاری رہی۔ بینچ بھی وہی پانچ رکنی تھا لیکن آج فرق صرف کمرہ عدالت کا تھا۔

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے شہر میں نہ ہونے کی وجہ سے ان درخواستوں کی سماعت عدالت نمبر ایک میں ہوئی جس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔

٭حسین نواز کی جانب سے قطری شہزادے کا ایک اور خط

٭پاناما کیس: وزیرِاعظم سے تین سوالوں کے جواب طلب

وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف کے وکیل شاہد حامد جب اپنی موکلہ کے اپنے والد کے زیر کفالت نہ ہونے کے بارے میں دلائل دے رہے تھے اور پانچ رکنی بینچ میں شامل جج صاحبان انھیں ’گرِل‘ کر رہے تھے تو کمرۂ عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جہانگیر ترین کی ہنسی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔

جہانگیر ترین کے پہلو میں بیٹھے ہوئے شیخ رشید احمد کے چہرے پر کچھ دیر تو سنجیدگی طاری رہی تاہم جب عمران خان اُن کی طرف دیکھتے تو وہ بادل نخواستہ مسکرا دیتے۔

شیخ رشید نے جو کبھی نواز شریف کی کابینہ کا ایک اہم حصہ تھے، پاناما لیکس سے متعلق اپنی درخواست میں مریم نواز شریف کو فریق نہیں بنایا ہے۔

عدالت کی طرف سے جب مریم نواز شریف کے وکیل سے مختلف سوالات کی بوچھاڑ کی جاتی تھی تو کمرہ عدالت میں موجود وفاقی وزرا اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمان کے چہروں پر سنجیدگی دیدنی تھی۔ یہ وزرا تھوڑی دیر اپنی سیٹوں پر بیٹھتے اور پھر کمرہ عدالت سے باہر چلے جاتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شیخ رشید جو کبھی نواز شریف کی کابینہ کا ایک اہم حصہ تھے نے پاناما لیکس سے متعلق اپنی درخواست میں مریم نواز شریف کو فریق نہیں بنایا

سماعت کے دوران عمران خان کے ہاتھ میں تسبیح ضرور تھی لیکن جب تک مریم نواز کے وکیل سے بینچ کی طرف سے سخت سوالات نہیں کیے جاتے تھے تب تک اُن کے ہاتھ تسبیح کے دانوں پر نہیں چلتے تھے۔

اس سے پہلے جب سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے تحریک انصاف کے وکیل سے بھی سوالات کیے جاتے تھے تو وقت عمران حان کے ہاتھ تسبیح کے دانوں پر تیزی سے چلنا شروع ہوجاتے تھے۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران پہلی مرتبہ عمران خان اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

سماعت کے دوران مریم نواز شریف کے وکیل نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ حزبِ مخالف کی کچھ جماعتوں نے محض سیاسی بنیادوں پر وزیر اعظم کے خلاف آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ سیاسی نہیں بلکہ دشمنی کا معاملہ ہے۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ کافی سخت لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ آدھے گھنٹے بعد دیکھ لیجیے گا کہ دونوں پارٹیاں باہر جاکر ٹی وی چینلز پر کس طرح عدالتی کارروائی کی اپنے رنگ میں تشریح کرتی ہیں۔

مریم نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ سنہ 1999 میں جب میاں نواز شریف کی حکومت کو ایک فوجی آمر نے برطرف کیا تھا تو اس پر عمران خان نے خوشی کا اظہار کیا تھا جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وکیل صاحب اگر اس کی مزید تفصیل میں جائیں گے تو اس وقت کے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے بھی وزیر اعظم کی برطرفی کا خیر مقدم کیا تھا۔

سماعت کے دوران شاہد حامد کی طرف سے وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے جمع کروائی گئی دستاویزات میں قطری شہزادے حماد بن جاسم بن جابر الثانی کا خط پیش کیا تو بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ’قطری شہزادے کا ایک اور خط بھی آ گیا ہے اس میں بتائیں کیا کہا گیا ہے۔‘

جس پر مریم نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس میں قطری شہزادے نے اپنے کاروبار اور لندن فلیٹس کے بارے میں بتایا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں تفصیلات حسین نواز کے وکیل ہی عدالت کو بتائیں گے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق مذکورہ قطری شہزادہ چند ہفتے قبل پاکستان بھی آئے تھے۔

سماعت کے آخر میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس درخواستوں کی سماعت میں بڑے قابل وکلا نے عدالت کی معاونت کی اور ان میں شیخ رشید بھی شامل ہیں جس پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا۔

اسی بارے میں