’ابا کو زین کی موت کا نہیں بتایا‘

زین حسین تصویر کے کاپی رائٹ DILAWAR HUSSAIN
Image caption پاڑہ چنار کی سبزی منڈی میں ہلاک ہونے والا آٹھ سالہ زین

گذشتہ ہفتے کو پاڑہ چنار میں کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے لوگوں میں حسین کا خاندان بھی شامل تھا۔

اس کا شمار علاقے کے غریب ترین خاندانوں میں ہوتا ہے اور اس کی گزر بسر بڑی حد تک جمیل حسین کی آمدنی پر ہوتی ہے جو کراچی میں مزدوری کرتے ہیں۔ ان کے 15 سالہ بیٹے سبیل حسین پاڑہ چنار میں ایک پولٹری فارم پر کام کرتے ہیں۔

سبیل کے چھوٹے بھائی 12 سالہ الطاف شہر کی سبزی منڈی میں ہر صبح ریڑھی لے جاتے تھے اور اس پر سبزی ڈھوتے تھے۔

٭ پاڑ

٭ کوہاٹ میں غیر قانونی اسلحے کو ختم کرنے کے لیے مہم

گذشتہ ہفتے تک ان کے آٹھ سالہ بھائی زین حیدر بھی ان کے ساتھ منڈی جایا کرتے اور وہاں سے بچی کھچی سبزی ڈھونڈ کر لاتے تھے تاکہ اسے پکایا جا سکے۔

ہفتے کے دن جب زین سبزی لے کر لفافے میں بھر رہے تھے، الطاف کو ایک دکاندار نے کہا کہ وہ ان کی سبزی ریڑھی پر لاد کر لے جائے اور زین سے کہا کہ وہ وہیں انتظار کرے۔

چند منٹ بعد بم دھماکہ ہو گیا، فضا میں دھواں، دھول، پیٹیوں کے ٹکڑے اور سبزیاں اڑنے لگیں۔

سبیل حسین کہتے ہیں: ’الطاف زین کو دیکھنے کے لیے فوراً واپس نہیں لوٹ سکے کیوں کہ وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی جو ادھر ادھر بھاگ دوڑ رہی تھی۔

’آدھے گھنٹے بعد میں گھر گیا تو الطاف صدمے کی حالت میں تھے۔ ان کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا۔ انھوں نے کہا کہ زین انھیں نہیں ملا، صرف اس کے پھٹے پرانے جوتے ملے ہیں۔‘

زین کو ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ دم توڑ گئے۔

اس دھماکے میں 25 لوگ مارے گئے تھے۔

سنہ2007 کے بعد سے یہ پاڑہ چنار میں ہونے والا آٹھواں بڑا دھماکہ تھا۔ ان حملوں میں اب تک 500 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

مقامی جرگے کے مشر حاجی فقیر حسین کہتے ہیں کہ ’اس حساب سے پشاور کے بعد پاڑہ چنار جنگجوؤں کے نشانے پر دوسرا بڑا شہر ہے۔‘

طالبان کے خلاف جنگ

ہفتے کے حملے سے کئی ہفتے قبل اس علاقے میں تعینات پاکستانی فوج نے مقامی قبائلیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ فروری کے آغاز تک تمام بھاری اسلحہ حکومت کے حوالے کر دیں۔

1980 کے عشرے میں افغان جنگ کے دوران اس نیم خود مختار علاقے میں جگہ جگہ اسلحے کی نجی ذخیرگاہیں قائم ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوِئے

یہاں دو بڑے قبائل ہیں، کرم اور طوری، جن کے پاس لائٹ اور ہیوی مشین گنیں، راکٹ سے داغے جانے والے گرینیڈ، حتیٰ کہ کچھ طیارہ شکن توپیں بھی ہیں، جنھیں کرم ایجنسی کی سرحد کے ساتھ ساتھ کئی مشترکہ اسلحہ گاہوں میں رکھا جاتا ہے۔

یہ قبائلی دو وجوہ کی بنا پر اس اسلحے سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

اول، پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی ضلعوں میں کرم واحد علاقہ ہے جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں۔ یہ ضلع تین طرف سے افغانستان میں گھرا ہوا ہے جہاں پاکستانی طالبان سے منسلک عناصر اور خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم نے پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔ یہ دونوں کٹر سنی اسلام کے پیروکار ہیں اور شیعوں کے سخت مخالف۔

اس کے علاوہ سنہ 2014 تک اس ضلعے کا مشرقی علاقہ بھی سنی جنگجوؤں کا آماج گاہ تھا۔

سنہ 2007 تا 2008 طوری اور بنگش قبائل نے پاکستانی طالبان کے ساتھ ایک لمبی جنگ لڑی تاکہ انھیں کرم پر قبضہ جما کر افغان دارالحکومت کابل پر حملے کرنے کے لیے دفاعی اہمیت کی گزرگاہوں تک رسائی نہ ہو سکے۔

کرم کے مغربی کنارے سے کابل صرف 90 کلومیٹر دور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاڑہ چنار میں پچھلے دس برس میں آٹھ دھماکے ہو چکے ہیں

دوم، لوگوں کو اپنے دفاع کے لیے فوج کی نیت اور صلاحیت دونوں پر شک ہے۔

مقامی مشر کہتے ہیں: ’فوج کا دعویٰ تو ہے کہ وہ ہمارا دفاع کر سکتی ہے، لیکن ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ جب طالبان ہمارے علاقوں پر قبضہ کرنے اور پاڑہ چنار تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا گیا تھا۔

’(فوج) اب بھی بعض طالبان گروہوں کی حمایت کر رہی ہے جو ہماری سرحد پر منڈلاتے رہتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی وقت کابل کے خلاف جنگ میں ہماری مغربی سرحد پر ہلہ بول سکتے ہیں۔'

Image caption طوری قبائل اور طالبان کے درمیان جھڑپ میں دریائے کرم پر واقع شیعوں کا گاؤں تباہ ہو گیا

'جیسے دانتوں میں بیچ زبان'

حافی فقیر حسین کہتے ہیں کہ اسلحے سے دست بردار ہونے کا مطلب ’ہماری بقا کے واحد ذریعے سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے۔

’ہمیں طالبان اور داعش نے اس طرح گھیر رکھا ہے جس طرح دانت زبان کو گھیرے میں لیے رکھتے ہیں۔ ہم نے کبھی حکومتی مفادات کے خلاف کام نہیں کیا، اور ہم (ان سے) لڑ نہیں سکتے، لیکن انھیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہتھیاروں سے دست بردار ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم اپنی عورتیں اور بچے دشمن کے حوالے کر کے انھیں اجازت دے دیں کہ وہ ان کے ساتھ جو چاہیں کریں۔‘

کرم کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ہونے والا دھماکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شیعہ مخالف جنگجوؤں کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔ اس بات کا بھی خوف ہے کہ حکومت اس کا الزام شیعوں پر دھر کر ان کا اسلحہ ہتھیا لے گی۔

کرم سے قومی اسمبلی کے رکن ساجد حسین طوری کہتے ہیں: ’اتوار کو انھوں نے بم دھماکے کے سلسلے میں سات لوگ گرفتار کر لیے، لیکن ان کی اکثریت کا تعلق طوری قبیلے سے ہے جو سبزیوں کے تاجر تھے۔ ہم ان حراستوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انھیں طالبان کو پکڑنا چاہیے جنھوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں ہلاک ہونے والوں کو جلد ہی دفنا دیا گیا

’ابّا کو نہیں پتہ‘

کرم کے شیعہ قبائل اسلحہ رکھنے کے حق میں مہم چلا رہے ہیں، لیکن زین حیدر کے خاندان کے لوگ اپنے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

سبیل حسین نے کہا: ’میرے والد نے کراچی میں سخت زندگی گزاری ہے، اور وہاں کے طویل سفر میں بہت خرچ اٹھتا ہے۔ اس لیے ہم نے اسے (زین کی موت کا) نہیں بتایا۔‘

فی الحال وہ اپنی ماں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جن کا شوگر لیول زین کی موت کے بعد سے غیر متوازن ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ ان کے ذہن پر اس بات کا بھی بوجھ ہے کہ باپ بیٹے کی موت سے لاعلم ہے۔

انھیں کب بتایا جائے گا؟

سبیل کہتے ہیں: ’وقت کے ساتھ ساتھ یہ مشکل تر ہوتا جائے گا، لیکن جو بھی ہو، ہمیں اس سے نمٹنا ہو گا۔‘

اسی بارے میں