’ایسا تو نہیں چل رہا اب‘

عامر لیاقت تصویر کے کاپی رائٹ Bol TV
Image caption یہ فیصلہ کافی عرصے تک نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا ہے: پیمرا

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے (پیمرا) کی جانب سے نجی ٹی وی چینل بول پر نشر ہونے والے پروگرام 'ایسے نہیں چلے گا' اور اس کے میزبان عامر لیاقت پر پابندی کے اعلان کے بعد معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

اگرچہ ٹوئٹر پر پاکستان تحریک انصاف اور حکمران جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کے درمیان جھگڑے اور ’غنڈہ گردی‘ اور ’سو باتوں کی ایک بات‘ کے عنوانات کے ہیش ٹیگ مقبول رہے، تاہم عامر لیاقت پرحکومتی پابندی پر بھی خاصی لے دے ہوتی رہی جس کی بازگشت بھی سارا دن سناتی دیتی رہی۔

پیمرا کی عامر لیاقت اور ان کے پروگرام پر پابندی

پیمرا کی جانب سے مذکورہ میزبان اور ان کے پروگرم پر پابندی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ فیصلہ کافی عرصے تک نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ادارے کو 'سینکڑوں شکایات' بھی موصول ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ہدا شاہ

تاہم بظاہر اس پابندی کی فوری وجہ ان کے وہ پروگرام ہیں جن میں انھوں نے گذشتہ چند ہفتوں میں لاپتہ ہو جانے والے سماجی کارکنوں اور بلاگرز اور سماجی شخصیات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر کئی دیگر الزامات لگانے کے علاوہ انھیں ’ملک دشمن‘ اور ’مذہب مخالف‘ قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

پیمرا کے اعلان کے فوری بعد عامر لیاقت پر پابندی کی درخواست کرنے والے سماجی کارکن اور بلاگر جبران ناصر نے ٹویٹ کی کہ وہ ان ’تمام پاکستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے عامر لیاقت کی نفرت انگیز تقریر کے خلاف مہم کو اپنا فرض سمجھا اور پیمرا سے اس بارے میں شکایت کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’پیمرا کا ایک اچھا فیصلہ‘

پیمرا کی جانب سے جاری کیے جانے والے خط میں دی گئی مختلف شقوں کے حوالے سے ایک نجی چینل سے منسلک میزبان ھدیٰ شاہ نے لکھا کہ ’بالآخر پیمرا نے نفرت پھیلانے والے اس مقرر پر پابندی لگا دی ہے جس پر نفرت انگیزی کی تمام تعریفیں اور شِقیں لاگو ہوتی ہیں۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف ارشد علی راؤ کا کہنا تھا کہ اگرچہ پیمرا کا یہ فیصلہ اچھا ہے لیکن حکومت کو ’ان تمام لوگوں پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے جو نفرت پھیلاتے ہیں اور میڈیا پر دوسرے لوگوں کو کافر اور غدار ہونے کے سرٹیفیکیٹ دیتے پھرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption فرح ناز اصفہانی کی ٹویٹ

معروف صحافی اور مصنفہ فرح ناز اصفہانی نے عامر لیاقت پر پابندی کے فیصلے کو بہترین قدم قرار دیا۔

جہاں عامر لیاقت گذشتہ کئی برسوں سے ٹیلی ویژن پر اپنے مذہبی پروگراموں، خصوصاً رمضان کے مہینے میں خصوصی ٹرانسمیشن اور اپنے شوز میں آنے والے مہمانوں کے ساتھ رویے کے حوالے سے متنازع رہے ہیں اور ان کے بارے میں رائے منقسم رہی ہے، وہاں پیمرا کی جانب سے ان پر پابندی کے اعلان پر بھی ان کے چاہنے والوں نے عامر لیاقت کا دفاع کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’پاکستان مخالف بھینسے کو کیوں گرفتار نہیں کیا‘

آزادی اظہار کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اسفند یار بھٹانی نے لکھا کہ’پیمرا پاکستان اور اسلام مخالف بھینسے کو تو دو سال تک گرفتار نہیں کر سکا، لیکن اس نے نام نہاد آزاد خیالوں کی شکایت پر ایک ہفتے کے اندر ہی عامر لیاقت پر پابندی لگا دی۔‘

مذکورہ صارف شاید یہ بھول گئے کہ پیمرا کے پاس کسی کو ’گرفتار‘ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

ایک اور صارف نے سوشل میڈیا کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے اس سارے معاملے پر فکاہیہ اندازِ تحریر ہی اپنایا۔ ان کے بقول ’عامر لیاقت نے اپنے شو کا نام ’ایسا نہیں چلے گا‘ رکھ کر ٹھیک ہی کیا تھا کیونکہ اب واقعی ایسے نہیں چل رہا!

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ’ایسا تو نہیں چل رہا اب‘

اسی بارے میں