’پیمرا عامر لیاقت متفق، ایسا نہیں چلے گا‘

عامر لیاقت تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عامر لیاقت نجی چینل پر ’اب ایسا نہیں چلے گا‘ کے عنوان سے شو کرتے ہیں۔

سوشلستان میں آج پیمرا صفِ اول کا ٹرینڈ ہے اور اس کی وجہ پیمرا کی جانب سے ایک نجی ٹی چینل بول کے ایک پروگرام کی بندش اور اس کے بعد کی صورتحال پر تبصرے ہیں۔ آئیے پڑھتے ہیں کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔

آزادئ اظہار کیا ہے؟

پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے نے نجی ٹی وی چینل پر عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی لگا دی جس کے بعد ملک ک بعض حصوں میں تو چینل کا پروگرام نشر کیا گیا جبکہ بعض میں نہیں۔

اس کے علاوہ اس پروگرام کی بندش سے اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے بھی بحث شروع ہوئی ہے۔

سینیئر صحافی عامر ضیا جو بول کے لیے کام کرتے ہیں نے ٹویٹ کی کہ 'پیمرا کی بول کے خلاف یک طرفہ کارروائی اظہارِرائے کی آزادی کے خلاف ہے پیمرا کیسے بغیر ضابطے کی کارروائی کے چینل کو سزا کیسے دے سکتا ہے؟'

بول ہی کہ لیے کام کرنے والی سینیئر صحافی قطرینہ حسین نے لکھا 'عامر لیاقت پر پابندی سے بالکل مطمئن ہوں۔ اس ہفتے کے دوران عامر لیاقت نے جو کچھ آن ایئر کیا اس سے میرے اور کئی قریبی دوستوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔'

صحافی بینا سرور نے لکھا 'آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ آپ میڈیا کی اخلاقیات، ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کریں اور عوامی پلیٹ فارم کا استعمال کر کے لوگوں پر توہینِ مذہب اور غداری جیسے الزامات لگائیں۔'

خرم شہزاد نے لکھا کہ 'ایک ملکی ٹی وی چینل کے میزبان کو پتا ہونا چاہیے کہ نفرت انگیز گفتگو کیا ہے اور اگر انھیں نہیں معلوم تو انہیں ایسا پلیٹ فارم نہیں ملنا چاہیے۔'

میر جہوار نے لکھا 'آزادئ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرے کریں۔'

ارشد علی راؤ نے لکھا 'جو نفرت انگیز خیالات کا پرچار کرتے ہیں اور کفر اور غداری کے سرٹیفیکیٹ میڈیا پر تقسیم کرتے پھرتے ہیں ان پر مکمل پابندی لگنی چاہیے۔'

مگر پروگرام پر پابندی کے باوجود پروگرام جمعرات کی رات کو نشر ہوا جسے بعض جگہوں پر دیکھا گیا جس میں پروگرام کے میزبان نے پیمرا پر کڑی تنقید کی جس کے نتیجے میں بول چینل کی نشریات میں بعض جگہوں ہر تعطل دیکھا گیا۔

اس حوالے سے ٹوئٹر پر بہت سارے سوالات گردش کر رہے ہیں کہ 'پیمرا کی پابندی کے باوجود چینل کیسے نشریات چلا رہا ہے اور کیبل آپریٹرز کس کے اشارے پر چینل دکھا رہے ہیں۔'

بوٹس کا زمانہ

بوٹ یعنی ایسے پروگرام جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے خودکار طریقے سے کام کرتے ہیں کے حوالے سے کہا جا رہے کہ مستقبل میں ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

پاکستان میں اس کی سب سے بڑی مثال سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے مصنوعی ٹرینڈز کی صورت میں واضع ہے جس کے تحت اچانک سے چند ہیش ٹیگ اور الفاظ ٹرینڈ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

مگر بوٹس کی ترقی کا راز چیٹ ایپس کی بڑھتی مقبولیت سے ہے جیسا کہ وٹس ایپ ہے کیونکہ لوگ سوشل میڈیا پر پوسٹنگ یا ٹویٹنگ کرنے کی نسبت چیٹ کرنا اب بھی زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال امریکی انتخابات کے دوران فیس بُک میسنجر اور وٹس ایپ پر ایسے بوٹس کا کردار ہے جو آپ کے سوالات کے خود جواب دیتے تھے۔

اکاؤنٹنگ فرم سیج ایسے بوٹ پر کام کر رہی ہے جو آپ کے بزنس اسسٹنٹ کے طور پر کام کرے گا اور چھوٹے کاروباری افراد کو اخراجات اور آمد کے حساب کتاب میں مدد کرے گا۔

وینچر بیٹ نامی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت 170 سے زیادہ کمپنیاں بوٹ بنانے پر کام کر رہی ہیں جس میں اب تک چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے اور ہزاروں باٹس بنائے جا چکے ہیں۔

تو کیا وقت آنے والا ہے کہ پاکستانی سیاست کے سوشل میڈیائی جتھوں کی جگہ یہ مشینی بنے بنائے پروگرامڈ باٹس لیں گے؟ کیونکہ گذشتہ چند ماہ کی کارروائیوں سے ایک بات ثابت ہے کہ آپ سوشل میڈیا کے جنگجوؤں کو ایک حد تک ہی پروگرام کر سکتے ہیں اور ان کے قابو کے باہر ہونے کے بعد کی تو بالکل کوئی گارنٹی نہیں ہے۔

اس ہفتے کا تعارف

دنیا بھر میں مختلف لوگ اپنے شوق کی وجہ سے سوشل میڈیا پر گروپس بناتے ہیں اور ہوابازی کی تصویریں بنانے اور طیاروں پر نظر رکھنا بھی اسی طرح کا شوق ہے۔ پلین سپاٹرز پاکستان ایسا ہی ایک فیس بُک پیج ہے جہاں پاکستان کے مختلف فوٹوگرافرز اور پلین سپاٹرز اکٹھے ہیں۔ان کی تصاویر کو آپ ان کے فیس بُک پیج پر دیکھ سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستانی حکام کسٹم کے عالمی دن کے موقع پر کراچی میں پکڑی جانے والی منشیات اور دوسری اشیا تباہ کر رہے ہیں۔