ڈیرہ اسماعیل خان: کم سن بچیوں کے ریپ اور قتل کا ملزم گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ملزم نے بتایا کہ اس نے بچی کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا اور لاش قریب واقع گنے کے کھیت میں پھینک دی ہے- (فائل فونو)

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کم سن بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کا گلا گھونٹ کرہلاک کرنے والے ملزم کو آخر کار پولیس نے گرفتار کر لیا۔

ملزم اس سے پہلے اسی طرح کی دو وارداتیں کر چکا تھا اور یہ تیسری واردات تھی۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز پہلے ظفر آباد کالونی میں رشتہ داروں کے ہاں شادی کی تقریب میں جانے والی ساڑھے پانچ سالہ بچی لاپتہ ہوگئی تھی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں سپرنٹنڈنٹ پولیس انویسٹیگیشن ثناءاللہ خان مروت نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ بچی کی تلاش کے دوران اس بچی کے چچا زاد بھائی محمد بلال پر شک گزرا تو اس سے پوچھ گچھ شروع کی گئی اور محمد بلال نے تھوری دیر بعد سب کچھ اگل دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم محمد بلال نے بتایا کہ اس نے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور پھر اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا اور لاش قریب واقع گنے کے کھیت میں پھینک دی ہے۔ پولیس نے لاش برآمد کر کے مزید تفتیش شروع کر دی۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس ثنااللہ خان نے بتایا کہ ملزم محمد بلال نے سال 2014 میں بھی ساڑھے پانچ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ یہ بچی بھی ملزم محمد بلال کی پڑوسی بتائی گئی ہے۔ اسی طرح سال 2016 میں بھی ملزم نے اسی عمر کی ہی ایک بچی کو زیاتی کا نشانہ بنا کر دوپٹے سے بچی کا گلا گھونٹ دیا تھا اور لاش زیر تعمیر مکان میں پھینک دی تھی۔

محمد بلال کے بارے میں معلوم ہوا ہے اس کی عمر 22 سے 23 سال تک ہے۔

اسی بارے میں