’پاکستان پر پابندی لگانا آسان نہ ہوگا مگر خطرہ بہرحال ہے‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس حکم نامے کے تحت، جس پر صدر ٹرمپ نے جمعے کو دستخط کیے تھے، امریکہ کا پناہ گزینوں کا پروگرام معطل کر دیا گیا تھا اور عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، اور یمن کے شہریوں کی امریکہ آمد پر 90 دن کی پابندی لگا دی تھی

سات مسلم اکثریتی ممالک کے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر پابندی کے خلاف امریکہ میں جاری مظاہروں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اپنے پابندی کے فیصلے پر قائم ہے۔

انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ پابندی کا دائرہ وسیع بھی ہو سکتا ہے جس میں سعودی عرب اور افغانستان کے علاوہ پاکستان کا نام بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے دوسرے حکم نامے کی ضرورت ہو گی۔

٭ٹرمپ انتظامیہ مظاہروں کے باوجود حکم نامے پر قائم

٭کیا امریکی ویزا پالیسی مسلمان مخالف ہے؟

پاکستان پر اس ممکنہ پابندی کے بارے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے لاہور کے کچھ شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اظہارِ خیال کرنے والوں میں سے اکثریت کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لیے پاکستانیوں کی امریکہ داخلے پر پابندی لگانا اتنا آسان نہ ہو گا تاہم خطرہ بہرحال موجود ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور کی رہائشی منزہ طارق کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکہ میں مقیم ان کے خاندان کے لوگوں کے لیے کافی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں پاکستان پر پابندی عائد ہو سکتی ہے تو ان کا کہنا تھا: ’ اللہ نہ کرے۔ وہ (ڈونلڈ ٹرمپ) خود ہی چلے جائیں کہیں۔ ورنہ بہت مشکل ہو جانی ہے۔‘

منزہ طارق کے بچے اور رشتہ دار طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں اور ایسی کوئی بھی پابندی ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ انھوں نے سن رکھا ہے کہ پابندی سے گرین کارڈ رکھنے والے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

تاہم بی ایس کے طالب علم محمد سلمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے پاکستان پر پابندی لگانا اتنا آسان نہ ہو گا کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔

انھوں نے پابندی سے متاثر ہونے والے تمام ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ متحد ہو جائیں کیونکہ مسلم ممالک نے آپس کی لڑائی میں خود کو کمزور کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پابندی سے گرین کارڈ رکھنے والے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں

وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف رائنس پرائبس نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے ابتدائی طور پر ان ملکوں کو اس فہرست میں شامل کیا جن کے متعلق کانگریس کے دونوں ایوانوں نے شناخت کر رکھی تھی۔

اور یہ کہ شاید دوسرے ایگزیکیٹو حکم نامے کے تحت دوسرے ممالک کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم لاہور کے شہری میجر ریٹائرڈ منظور کا کہنا تھا کہ امریکہ اس فہرست میں پاکستان کو شامل نہیں کر سکتا ’کیونکہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ کچھ برا نہیں کیا۔ اس نے تو بلکہ امریکہ کے حامی کے طور پر ہر جگہ اس کا ساتھ دیا ہے۔‘

ایک اور شہری نعمان شاہین کے خیال میں تاہم اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ پاکستان کا نام بھی پابندی عائد ممالک میں شامل ہو جائے کیونکہ ’ٹرمپ سے آپ کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں۔‘

ان کے خیال میں پاکستان سے جڑے امریکی مفادات شاید پاکستان کو اس وقت بچا لیں جس کی بڑی وجہ خطے میں پاکستان کا محل وقوع ہے۔

مگر نعمان شاہین کو ڈر ہے کہ اگر پابندی نہ بھی لگائی گئی تو بھی پاکستانیوں کو امریکی ویزا کے حصول اور امریکہ میں داخلے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے مسز میجر سہیل کا کہنا تھا کہ ایسی پابندی درحقیقت پاکستان کے لیے مفید ثابت ہو گی۔ ’ہمارے باہر جانے کی راستے بند ہوں گے تو ہم اپنے ملک کے لیے کچھ کر سکیں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں