پہلی عالمی جنگ کے دوران ہندوستانی فوجیوں نے کیا لکھا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پہلی عالمی جنگ میں متحدہ ہندوستان سے شریک ہونے والے انڈین سپاہیوں کے خطوط سے اقتباس

'گولیوں کی سنسناہٹ، توپوں کی گھن گرج اور جہازوں کی گڑگڑاہٹ میں گھر سے آئے خط ہی تو میرا سہارا ہیں۔'

یہ اقتباس ہے پہلی جنگِ عظیم میں فرانس کے محاذ سے ایک انڈین سپاہی کے اپنے بھائی کے نام خط کا۔

تصاویر: یہ ایک صدی کا قصہ ہے

تصویر کے کاپی رائٹ IWM
Image caption پہلی عالمی جنگ کا منظر نامہ ہندوستانی سپاہیوں کی نظر سے

1914 سے 1918 تک متحدہ ہندوستان کے تقریباً تیرہ لاکھ فوجیوں نے اس جنگ میں حصہ لیا۔ ان میں سے تقریباً چوہتر ہزار مارے گئے۔

جنگ کے پانچ برسوں میں لاکھوں خط محاذِ جنگ سے متحدہ ہندوستان بھیجے گئے۔

Image caption برٹِش لائبریری میں محفوظ ان خطوط کی انگریزی نقول میں انڈین سپاہیوں کے مشاہدات، کیفیات اور جنگی ہولناکیوں کا ذکر کثرت سے ملتا ہے

ایک سپاہی نے لکھا: 'گولے ایسے گر رہے ہیں جیسے ساون بھادوں میں بارش۔'

ایک اور نے لکھا: 'لاشیں ایسے بکھری پڑی ہیں جیسے کٹائی کے بعد مکئی کے گٹھے۔'

یہ خط برطانوی سینسر آفس سے پاس ہونے کے بعد ہی اپنی منزل پر پہنچ پاتے۔ سینسر والے جنگی تفصیل اور نام کاٹ دیتے تھے۔ کبھی کبھی سارا خط ہی روک لیا جاتا تھا۔

اللہ دِتہ اور مصطفٰی نے جہلم میں نتھو خان کو لکھا: 'جس نے بھی کہا ہے کہ فرانس میں جنگ نہیں ہو رہی، جھوٹ ہے۔ جنگ زوروں پر ہے۔ ہزاروں ماؤں کی گود اجڑ چکی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption سپاہی رام سنگھ کا یہ خط سینسر آفس نے روک لیا تھا

سپاہی رام سنگھ نے برطانوی شہر برائٹن کے کِچنر انڈین ہسپتال سے اپنے والد کو لکھا: 'ہمیں جنگ کے بارے میں لکھنے کی اجازت نہیں۔ اخبارات جھوٹے ہیں۔ ہم نے صرف چار سو گز کے علاقے پر قبضہ کیا ہے۔'

ایک کلرک نے انڈیا میں اپنے بھائی پر برہمی کا اظہار یوں کیا ہے: 'تمہیں اندازہ نہیں میں کتنا افسردہ ہو جاتا ہوں جب مجھے ہفتے میں تمہارا، پی ایس اے کا اور میری بیوی کا خط نہیں ملتا۔ یہاں گولیوں کی سنسناہٹ، توپوں کی گھن گرج اور جہازوں کی گڑگڑاہٹ میں گھر سے آئے خط ہی تو میرا سہارا ہیں۔'

سخت سردی اور بارشوں کے موسم میں ہندوستانی سپاہیوں کے لیے خندقوں کی لڑائی سب سے زیادہ پریشان کن تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ IWM
Image caption گیس ماسک پہنے انڈین سپاہی خندق میں

فرانس سے ایک سپاہی کا خط کوہاٹ میں ایک دوست کے نام: 'دشمن نے خندقوں پر گیس سے حملہ کیا جس سے میرے مسوڑے سوج گئے تھے۔ اب بالکل ٹھیک ہوں۔'

بعض خطوں میں عزیزوں کو فوج میں بھرتی ہونے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

کئی سپاہیوں نے یورپ کی خوبصورتی کو پرستان سے تشبیہ دی ہے۔

فرانس سے جلال الدین نے یوپی میں حاجی سادات اور میر خان کو لکھا کہ ’فرانس میں حسن کی بھرمار ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ IWM
Image caption یورپ کا انسانی اور قدرتی حسن بہت سے ہندوستانیوں کے اعصاب پر اثر انداز ہوا

ایک میڈیکل اسسٹنٹ نے انڈیا میں اپنی بیوی کو لکھا: 'برائٹن میں ہر طرف لڑکیاں ہیں جو دیسیوں پر خوب مہربان ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی ہیں۔ گندمی اور سانولے رنگ پر مرتی ہیں۔'

ایک اور فوجی نے سیالکوٹ میں اپنے دوست کو لکھا: 'یہاں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ شادی کے لیے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کا انتخاب خود کرتے ہیں۔'

بہت سے سپاہیوں نے گھر سے دوری کا غم غلط کرنے کے لیے نشے کا سہارا لیا تو کسی کو میدان جنگ میں مہندی اور سرمے کا غم ستاتا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption شدید سردی میں چرس کی فرمائش

فرانس سے سپاہی کومِل کہار نے بدایوں میں ڈوری کہار کو تاکید کی: 'جتنی جلد ہو سکے مجھے چرس کی چار ٹکیاں بھیجو۔ سردی کی وجہ سے اشد ضرورت ہے۔'

سپاہی غریب اللہ نے پشاور میں دوستوں سے التجا کی: 'خط ملتے ہی ایک تولہ افیون فوراً روانہ کرو۔'

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption فرانس میں بغیر مہندی اور سرمے کے پھیکی خوشیاں

فرانس سے نورباز نے کوہاٹ میں گل بادشاہ کو اپنا دکھڑا سنایا: 'افسوس کہ ہم نے فرانس میں چار عیدیں مہندی اور سرمہ لگائے بغیر منائیں۔ یہ چیزیں روانہ کرو۔'

ایک سپاہی نے انڈیا میں اپنی بیوی کو لکھا:

'میری بیوی، میری جان

'تم پریشان مت ہو! سمندر پار سفر نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ یہاں کوئی اونچ نیچ نہیں۔ یہاں تمام لوگ اپنی زندگی میں مگن اور اچھی طبیعت والے ہیں۔

تمہیں چاہنے والا

گنیش'

سات لاکھ انڈین سپاہی ترک سلطنت عثمانیہ کے خلاف بھی میدان میں اترے۔ بہت سے مسلمان تھے۔ کئی نے مسلم بھائیوں کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا اور سزائیں کاٹیں۔ مگر بعض نے اسے انگریز سرکار سے اپنی وفاداری جتلانے کا موقع جانا۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption وفاداری جتلانے کا موقع

فرانس میں ایک مسلمان سپاہی نے انڈیا میں اپنے بھائی کو لکھا: 'حکومتِ برطانیہ سے اپنے خاندان کی وفاداری ظاہر کرنے کا اس سے اچھا موقع نہیں میرے پاس۔ میں مانتا ہوں کہ ترکی مسلم ملک ہے۔ مگر ہمیں ترکی سے کیا لینا دینا۔'

یہ سپاہی اب رزقِ خاک ہو چکے ہیں، مگر یہ خط ان کی رقم کی ہوئی تاریخ کے کئی دلچسپ پہلوؤں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

اسی بارے میں