انڈیا کی ہتھیاروں کی خریداری، خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے: پاکستانی دفتر خارجہ

نفیس ذکریا ن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انڈیا کی بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری کی مہم اور اُن کی روایتی تنصیب خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے جبکہ پاکستان خطے میں جوہری اور روایتی اسلحے کے حصول کی دوڑ نہیں چاہتا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نفیس زکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران یہ بات انڈیا کے دفاعی بجٹ میں دس فیصد سے زیادہ اضافہ کیے جانے پر ایک سوال کے جواب میں کہی۔

خیال رہے کہ انڈيا کی حکومت نے اس برس کے اپنے سالانہ بجٹ میں ملک کے دفا‏عی اخراجات میں دس فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے جو حکومت کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 13 فیصد ہے۔

بیرونی ممالک سے جنگی ساز و سامان خریدنے میں عالمی سطح پر انڈیا اس وقت اول نمبر پر ہے اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس کے دفاعی اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

دوسری طرف حافظ سعید کی نظر بندی کے حوالے سے انڈین ردِ عمل پر نفیس زکریا نے الزام لگایا کہ 'انڈیا دہشت گردی کی آڑ میں چھپتا ہے جبکہ وہ خود پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں نہ صرف ملوث ہے بلکہ اُس کے لیے سرمایہ بھی مہیا کرتا ہے اور اِن تمام چیزوں کا الزام وہ پاکستان پر عائد کرتا ہے۔‘

اس کے علاوہ خلیجی ملک کویت کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزے پر پابندی کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ 'یہ خبر سنہ2000 میں خلیج ٹائمز میں چھپی تھی جسے دراصل حسین حقانی نے ری ٹویٹ کیا تھا، اب ایسا کچھ نہیں۔ بدقسمتی سے اُن کے کام افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ اُن کی عزت افزائی کی گئی تھی کہ اُنھیں پاکستان کی نمائندگی کا شرف بخشا گیا تھا لیکن اب اُن کے اقدامات سے نہ صرف قومی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔‘

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ حسین حقانی یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب پاکستان کی بہتر معاشی کارکردگی اور سکیورٹی کی صورتحال پر عالمی رہنماؤں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ حسین حقانی کے یہی اقدامات اُنھیں اور اُن کے کردار کو اُجاگر کر رہے ہیں جنھیں پاکستان کے اندر یا باہر کوئی بھی نہیں سراہتا۔

جب امریکہ میں مقیم پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی سے رابطہ کر کے اس الزام پر اُن کا ردِ عمل معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو اُنھوں نے ٹویٹ کے ذریعے منظوم پیغام دیا:

برا بھلا ہمیں کہتے ہو کچھ تو کہتے ہو

یونہی کسی کو کسی کا خیال ہوتا ہے

بی بی سی کے نامہ نگار عبداللہ فاروقی نے سوال پوچھا کہ کتنے عرب باشندوں کو پاکستان میں تلور کے شکار کے لیے لائسنس جاری کیے گیے ہیں؟ اس کے جواب میں ترجمان دفترِ خارجہ نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں اِس سلسلے میں معلومات حاصل کرنا ہوں گی۔

امریکہ کے پاکستانیوں پر ممکنہ ویزا پابندی کے سوال پر نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ امیگریشن پالیسی بنانا کسی بھی ملک کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے جو انسانی اور سیاسی بنیادوں کو نظر انداز کر کے نہیں کیے جاتے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبہ جات میں تعاون جاری ہے جسے پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مزید بڑھانے کی کوشش کرئے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں