بابا لاڈلا، لیاری گینگ وار کے اہم کردار

بابا لاڈلا تصویر کے کاپی رائٹ CID, Sindh

کراچی میں رینجرز سے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے بابا لاڈلا سفاک ملزم سمجھے جاتے تھے، وہ اپنے مخالفین سے انتہائی سفاکانہ انداز میں پیش آتے تھے۔

رینجرز ترجمان کے مطابق بابا لاڈلا نے ٹارچر سیل بنا کر خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا اور وہ 70 سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے۔

لیاری کے جرائم پیشہ گروہ وارداتوں کے خلاف ایک دوسرے کے خلاف بھی حملوں اور کارروائیوں میں شامل رہے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق بابا لاڈلا مخالف گروپ کے ارشد پپو اور شیراز کامریڈ کے قتل میں بھی ملوث تھے اور ان مخالفین کو قتل کر کے ان کے لاشوں کے بے حرمتی بھی کی گئی تھی۔

رینجرز نے گذشتہ شب لیاری کی پھول پتی گلی میں بابا لاڈلا کو مبینہ مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رینجرز ترجمان کے مطابق ملزمان نے آدھے گھنٹے تک مزاحمت کی جس کے دوران رینجرز پر دستی بم پھینکے گئے اور فائرنگ کے تبادلے میں تین ملزمان ہلاک ہو گئے جن کی شناخت نور محمد عرف بابا لاڈلا، سکندر عرف سکّو اور محمد یسین عرف ماما کے نام سے ہوئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے لیاری گینگ وار کے ایک اور اہم کردار ارشد پپو قتل کیس میں بابا لاڈلا کو مفرور قرار دیا تھا کہ جبکہ اس کیس میں عذیر بلوچ پہلے ہی گرفتار ہیں۔ اس سے قبل بابا لاڈلا کی ایران کے سرحدی علاقوں میں مقابلے میں مارے جانے کی اطلاعات آئی تھیں جس کی مقامی پولیس نے تصدیق نہیں کی تھی۔

عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کی ایس پی چوہدری اسلم سے ایک مقابلے میں ہلاکت کے بعد بابا لاڈلا کا نام سامنے آیا تھا۔ وہ گروپ کے سربراہ بننے کے خواہش مند تھے، لیکن گروہ نے عذیر بلوچ کو منتخب کیا۔

اس فیصلے کے بعد دونوں میں اختلافات جاری رہے، بزنجو گراونڈ میں فٹبال میچ کے دوران دھماکے کے بعد یہ اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ بابا لالہ گروپ کا خیال تھا کہ بم انھیں ٹارگٹ کرنے کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ جس کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے۔

لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عبدالرحمان بلوچ، ارشد پپو اور بابا لاڈلا مارے جا چکے ہیں جبکہ عذیر بلوچ اس وقت زیر حراست ہیں۔ رینجرز ترجمان نے واضح کیا ہے کہ وہ نوجوان جو بابا لاڈلا جیسے سرغنہ سے متاثر ہو کر جرائم کی پشت پناہی میں ملوث یا منسلک ہیں ان کے لیے بابا لاڈلا گروپ کی ہلاکت ایک مثال ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے نہیں نکل سکتے۔

صحافی اور تجزیہ نگار سعید سربازی کہتے ہیں کہ ایک نسل گینگ وار کا حصہ بن چکی ہے۔ بابا لاڈلا کو ختم کرنے سے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔

’ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں بھی ان عناصر کی مدد یا حمایت کرتی رہی ہیں، چھوٹے چھوٹے لڑکے ہیں جو یہ دیکھتے ہیں کہ گینگسٹر کے پاس پولیس افسر آ رہا ہے ان کی ذریعے تعیناتی ہو رہی ہے تو یہ لڑکے سوچتے ہیں کہ گینگسٹر ہی اصل مالک اور طاقت ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان کی سیاسی حمایت ختم ہو۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کی ذہنی تربیت اور بیروزگاری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے سے لیاری پرامن بن سکتا ہے۔‘

یاد رہے کہ 40 سالہ نور محمد عرف بابا لاڈلا نے بھی ایک چھوٹے منشیات فروش کی حیثیت سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا، بعد میں اپنی سخت گیری کی وجہ سے اپنے گروہ میں مقبول ہو کر علاقے میں دہشت کی علامت بن گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں