لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کی وزیرِ اعظم سے اپیل

لاپتہ فراد کے اہلِ خانہ

پاکستان کے صنعتی شہر فیصل آباد اور جھنگ سے چھ ماہ قبل لاپتہ ہو جانے والے شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے چار افراد کے اہلِ خانہ نے پاکستان کے وزیر اعظم، چیف جسٹس اور شیعہ اکابرین سے اپنے عزیزوں کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔

لاپتہ ہوجانے والے اختر عمران، وقار حیدر، اسد عباس اور راغب عباس خان کے اہلِ خانہ نے اسلام آباد پریس کلب میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران سوال کیا کہ رات کے اندھیرے میں اُن کے پیاروں کو کیوں گرفتار کیا گیا اور اُن کا قصور بتائے بغیر اب تک اُنھیں کیوں گرفتار رکھا گیا ہے؟

لاپتہ ہونے والے راغب عباس ثاقب کی بہن عمارہ نے بی بی سی کو بتایا کہ '21اور 22 ستمبر کی رات کئی گاڑیوں میں لوگ آئے تھے، وہ گھر میں داخل ہوئے، توڑ پھور کی اور میرے بھائی کو لے گئے۔ ابو نے کئی بار پوچھا کس لیے لے جا رہے ہو کیا جرم ہے؟ بس اتنا کہا کہ ہم سکیورٹی کے اداروں سے ہیں اور بس لے گئے۔‘

عمارہ نے کہا کہ اُن کے بھائی راغب عباس سٹیٹ لائف انشورنس میں کام کرتے تھے، سماجی کاموں میں حصہ لیتے تھے اور خون کے عطیات کے لیے محلے میں مشہور تھے۔ عمارہ عباس نے بتایا کہ پولیس اور سیشن کورٹ میں شنوائی نہ ہونے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

لاپتہ ہو جانے والے اختر عمران کی اہلیہ اور وقار حیدر کی بھابھی نگہت زہرا نے بی بی سی کو بتایا کہ 23 اور 24 اگست کی درمیانی شب اُن کے گھر بھی سی ٹی ڈی اور رینجرز کے لباس میں ملبوس اہلکار داخل ہوئے اور اُن کے شوہر اور دیور کو اپنے ساتھ لے گئے۔ 'اُس کے بعد ہم نے رٹ دائر کی لیکن کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔‘ نگہت زہرا نے خدشہ ظاہر کیا کہ اُن کے شوہر کو شیعہ فرقے سے تعلق اور سماجی کاموں میں حصہ لینے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک اور خاتون شازیہ منظور نے بتایا کہ اُن کے شوہر اسد عباس آہیر کو بھی رات کے وقت گرفتار کیا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ وردیوں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اُن لوگوں کا تعلق پولیس اور رینجرز سے ہے۔

شازیہ منظور اور ان کے شوہر تین ساڑھے تین سال ایران میں رہنے کے بعد پاکستان آئے تھے، جس کے بعد اُنھیں گرفتار کر لیا گیا۔ اُنھوں نے اپیل کی ہے اگر اُن کے عزیزوں کا کوئی جرم ہے تو اُنھیں سامنے لایا جائے اور اُن کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے شیعہ رہنماؤں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اُن کی مدد کے لیے آگے آئیں، بصورتِ دیگر وہ عدالتوں سے انصاف مانگتے ہوئے احتجاج جاری رکھیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں