قومی احتساب بیورو کا نام قومی احتساب کمیشن رکھنے پر ’اتفاق‘

نیب

پاکستان میں احتساب کے ادارے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کا نام تبدیل کرنے اور اس میں بھیجے جانے والے مقدمات کی تفتیش کے لیے الگ ادارہ قائم کرنے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔

٭نیب: پلی بارگین کیوں اور کیسے؟

اس بات پر اتفاق رائے نیب کے قوانین کا از سرنو جائزہ لینے کے بارے میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے مطابق قومی احستاب بیورو کا نام تبدیل کرکے اس کا نام قومی احتساب کمیشن رکھنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ادارے کے سربراہ کے بارے میں ابھی حمتی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ اس کا چیئرمین عدلیہ سے ہوگا یا کسی دوسرے ادارے سے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کمیٹی کے ارکان نے اس ضمن میں غوروخوض کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔

پارلیمنٹ کی اس مشترکہ کمیٹی کے ارکان کی زیادہ تعداد اس بات پر متفق ہے کہ اس ادارے کا سربراہ عدلیہ سے ہی لیا جائے۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان مقدمات کی تفتیش کرنے والے ادارے کو اکاؤنٹیبلٹی انویسٹیگیشن ایجنسی کا نام دیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ نیب کے کیسز تفتیش کے لئےمقدمات ایف آئی اے کے بجائے تجویز کردہ ایجنسی کے پاس جائیں گے۔

زاہد حامد کا کہنا تھا کہ مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ طے ہوا کہ نیب کے مقدمات کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کرے گا تاہم اس جج کی تقرری متعقلہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کرے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان سے اکاؤنٹیبلٹی انویسٹیگیشن ایجنسی کے دائرہ اختیار کے بارے میں بھی تجاویز مانگی گئی ہیں۔

’ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں بدعنوانی کی تعریف کے بارے میں غور کیا جائے گا اور اس بات کا امکان ہے کہ بدعنوانی کی تعریف میں کچھ تبدیلی ہو جائے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ قرض نادہندہ کے مقدمات انہی قوانین کے تحت الگ عدالتوں میں بھیجے جائیں گے۔

واضح رہے کہ عدلیہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتیں نیب کے قوانین اور بلخصوص پلی بارگین کے قانون کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے نیب کے چیئرمین سےملزموں سے پلی بارگین کرنے کے صوابدیدی اختیار پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں