معروف قانون دان بیرسٹر ملک سعید حسن چل بسے

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube

پیپلز پارٹی کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل اور ممتاز ماہر قانون ملک سعید حسن طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں ان کی عمر 85 برس تھی.

ملک سعید حسن نے جمعرات کے روز ایک نجی ہسپتال میں زندگی کی آخری سانسیں لیں۔

بیرسٹر ملک سعید حسن نے تمام زندگی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کیا اور اسی پاداش میں جیل بھی کاٹی۔

ماہر قانون ملک سعید حسن یکم مارچ 1931 کو بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے اور وہیں ایف اے تک تعلیم حاصل کی۔

پاکستان کے قیام کے بعد ملک سعید حسن لاہور آگئے جہاں انھوں نے گریجوئیشن کی پھر قانون کی تعلیم کیلیے برطانیہ چلے گئے۔

پاکستان واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کر دیا۔

ملک سعید حسن دو مرتبہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چنے گئے۔ پہلی مرتبہ 1973 اور دوسری بار 1985 میں ہائیکورٹ بار کے صدر رہے۔

بیرسٹر ملک سعید حسن نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کا منصب سنبھالا تاہم جب انہیں یہ محسوس ہوا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمے میں ان کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے تو وہ ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے مستعفی ہو گئے۔

استعفیٰ دینے کے ساتھ ہی بیرسٹر سعید حسن لاہور ہائیکورٹ کی اس عدالت میں ایک وکیل کی حیثیت سے پیش ہوگئے جہاں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ کی سماعت ہو رہی تھی۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ملک سعید حسن کا دفتر سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ بن گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ملک سعید حسن نے پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمے کے دوران بیگم نصرت بھٹو اور بینظر بھٹو کی قانونی معاونت بھی کی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے بیرسٹر سعید حسن کو پیپلز پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل بنا دیا اور انھوں نے جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمے کے لیے متحرک کردار ادا کیا۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد لاہور کے ناصر باغ میں غائبانہ نماز جنازہ کیلئے تمام انتظامات کیے۔

ملک سعید حسن کو جمہوریت کی بحالی کی پاداش میں چار مرتبہ مختلف عرصے کیلئے جیل بھی کاٹنی پڑی۔

انھوں نے بینظر بھٹو کے پہلے دور میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 95 سے ضمنی انتخاب بھی لڑا۔

قومی اسمبلی کی یہ نشست وزیر اعظم نواز شریف نے خالی کی تھی اور ملک سعید حسن کا مقابلہ سابق گورنر میاں اظہر سے ہوا تاہم ملک سعید حسن کامیاب نہ ہوسکے۔

ملک سعید حسن نے آمریت کے خلاف لگ بھگ تمام تحریکوں میں حصہ لیا اور فعال کردار ادا کیا۔

ایک ہفتہ قبل سابق جج اور ماہر قانون ملک سعید حسن کے اعزاز میں لاہور ہائیکورٹ میں تقریب ہوئی جس میں ملک سعید حسن نے اپنی علالت کے باوجود شرکت کی۔

ملک سعید حسن نے اپنے پسماندگان میں بیوہ، ایک بیٹا اور بیٹی سوگوار چھوڑے ہیں۔

متعلقہ عنوانات