سوشلستان: امریکہ میں اسلام بذریعہ ٹرمپ

سوشلستان میں آج آصفہ بهٹو زرداری کا سالگرہ کا ٹرینڈ نمایاں ہے۔ اس کے علاوە رینجرز، بابا لاڈلا کے عنوانات بهی ہیں۔ مگر بہت سے ہیں جو ان دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر اسی کے ساتھ کچه لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں اپنے گریبان میں بهی جهانکنا چاہیے۔

امریکی ایئرپورٹ مساجد بن گئے

سوشل میڈیا پر مختلف جانب سے اس بات پر بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں جن میں اس پابندی کے مضمرات اور اثرات پر بحث جاری ہے۔

٭'ایک عورت ہو کر ایسے کرتی ہے؟'

٭’یہ اردوغان کا ملک نہیں‘

چوہدری وسیم عظمت نے لکها 'صدر ٹرمپ نے انتہا پسند مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگا دی ہے, جو مسلمان انتہا پسندی میں ملوث نہیں وہ پہلے کی طرح امریکہ جا سکتے ہیں'

سوشل میڈیا پر کبهی ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی جائز یا ناجائز بات ہو اور اس کے حمایت یا اسے درست یا غلط ثابت کرنے کے لیے موازنے سامنے نہ آنا شروع ہو جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

اس معاملے میں بهی سوشل میڈیا پر مسلمانوں کی جانب سے مسلمانوں پر لگائی پابندیوں کا ذکر زوروشور سے جاری ہے۔

عبدالغفار عزیز نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکها کہ 'شکریہ #ٹرمپ آپ نے مسلمانوں پر پابندی لگا کر #امریکی ایئرپورٹ مساجد میں بدل دیے۔'

رب نواز بلوچ نے لکها 'دنیا بھر کے غیر مسلم ٹرمپ کے مسلمانوں پر پابندی کے خلاف احتجاج کررہے۔ لیکن مسلم دنیا خاموش۔'

اس حوالے سے چند صارفین نے سعودی عرب اور کویت کی جانب سے نکالے جانے والے پاکستانیوں کا ذکر بهی کیا جن پر ویزوں کے حوالے سے مختلف قوانین لاگو کیے گئے ہیں۔

اس پابندی پر سامنے آنے والی منافقت پر بات کرتے ہوئے یہ جملہ بہت شیئر کیا جا رہا ہے کہ 'جو اپنی مسجد میں دوسرے عقیدە کے مسلمانوں کو داخل نہیں ہونے دیتے وہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پریشان ہیں۔'

مگر بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر امریکی ہوائی اڈوں کے مناظر شیئر کیے جہاں مسلمان اجتماعی نماز باجماعت ادا کر رہے ہیں جس پر تبصرە کرتے ہوئے مشہور امریکی کامیڈین حسن منہاج نے تبصرە کیا کہ 'جس چیز سے امریکہ میں لوگ ڈرتے تهے اب وہ سب کے سامنے ہو رہا ہے۔ امریکہ میں اسلام کا ظہور بذریعہ ٹرمپ'

ٹوئٹر اور ٹرمپ کے حامی باٹس میں جنگ

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی سیاسی تحریک کی قوت میں ان کی سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو بهی ایک اہم جزو قرار دیا ہے مگر اب اس قوت کے حقیقی ہونے پر بهی سوالات اٹهائے جا رہے ہیں۔

اگر آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹس پر آنے والے ردِ عمل کا جائزە لیں تو اس سے اندازہ ہو گا کە ان سب میں کافی تعداد ایسے اکاوںٹس کی ہے جن کی ٹویٹس سے اندازە ہوتا ہے کە ان سب کو ایک پروگرام کے تحت لکها گیا ہے۔

مگر ٹوئٹر نے چند ماە قبل ٹویٹس کے جواب میں لکهی جانے والے جوابات کی تعداد بهی ظاہر کرنا شروع کی ہے جس سے اب جواب میں لکهی جانے والی کمپیوٹرائزڈ ٹویٹس کا اندازە آسانی سے ہو جاتا ہے۔

اس کےنتیجے میں اہم اور مقبول ٹویٹس اوپر نظر آتی ہیں جبکە جعلی اور کمپیوٹر پروگرام سے کی جانے والی ٹویٹس نیچے جانا شروع ہو جاتی ہیں۔

اس ہفتے کا تعارف

پاکستان میں مختلف تنظیمیں محتلف موضوعات پر کام کرتی ہیں جن میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم بلیو وینز ایک اہم کام کر رہی ہے اور وہ ہے خواجە سراؤں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بلیو وینز ہے۔

بلیو وینز کے بارے میں آپ مزید جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔

http://blueveins.org/

اس ہفتے کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سخت سردی کے موسم میں ایک مدرسے میں پرھنے والی بچیاں خود کو گرم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پنڈ سلطانی میں بیلوں کی ریس کا ایک منظر

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں