’بیان کا مقصد پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرانا تھا‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے گذشتہ دنوں امریکہ کی جانب سے پاکستانیوں پر ویزوں کی پابندی کا خیرمقدم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے اس بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اسلام آباد میں بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ پر چند صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انھوں نے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اشرافیہ ہر سال اربوں روپے بیرون ملک علاج اور اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو پیسہ کینسر کے علاج کے لیے بیرون ملک خرچ کیا جاتا ہے ان سے ہر سال پاکستان میں ایک ہسپتال قائم کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ یہی صورت حال تعلیم کے شعبے میں ہے۔ پاکستانی طالب علم جو فیس بیرون ملک یونیورسٹیوں کو ادا کرتے ہیں، وہ پاکستان کے سالانہ تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہے۔‘

ان کا اصرار تھا کہ اس سے اشرافیہ کو پاکستان پر توجہ دینے پر مجبور کیا جا سکے گا۔ ’اس بات کا مقصد پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا، دوسروں پر انحصار ختم کرنا تھا۔‘

یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے یہ بات کن اعداد و شمار کی بنیاد پر کی ہے۔ تاہم قوی امکان ہے کہ یہ بات انھوں نے تاثر کی بنیاد پر کی ہو گی۔ انھوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا وقت بھی تھا جب امریکہ سے اسے نہ عسکری اور نہ ہی سویلین امداد ملتی تھی اور ملک اچھی ترقی کر رہا تھا۔

اس بارے میں انھوں نے ایران کی مثال دی۔ ’کڑی امریکی پابندیوں کے باوجود وہ آج پاکستان سے زیادہ مضبوط بن کر سامنے آیا ہے۔ وہاں تعلیم اور صحت کے شعبے زبردست ہیں۔‘

وہ یاد دلاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب مشرق وسطیٰ سے نوجوان بڑی تعداد میں پڑھنے کے لیے پاکستان آتے تھے۔

ان کے مقابلے میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے پاکستانیوں پر کسی بھی ویزے کی پابندی کی شدید مخالفت کی ہے۔ بلاول زرداری نے امریکہ میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کے دوران کہا کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے مخاصمت میں اضافہ ہو گا۔

عمران خان کی توپوں کا رخ طویل عرصے سے چونکہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی جانب ہے لہٰذا ویزے پر پابندی کے اس بیان کا مرکز شریف خاندان ہی تھا جو اکثر علاج اور معائنے کے لیے بیرون ملک جاتے رہتا ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ جب شریف خاندان پر بھی ویزے کی پابندی ہو گی تو وہ پاکستان پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ جتنی توقع کر رہے تھے ٹرمپ اس سے زیادہ ناامید کیا ہے۔ ’صدارت سنبھالنے کے بعد جو وہ کر رہے ہیں وہ میری بھی توقعات سے زیادہ ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر ان کی ٹرمپ سے ملاقات ہو تو وہ انھیں کیا مشورہ دیں گے، عمران خان نے کہا کہ ’توقع نہیں ہے کہ ان کی باتوں کا صدر ٹرمپ پر کوئی بھی اثر ہو گا۔‘

لیکن عمران خان نے ٹرمپ کے سفری پابندیوں کے فیصلے پر کھل کر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سفری پابندیاں غلط ہیں اور یہ فیصلہ نسل پرستی کی بنیاد پر لیا گیا ہے اور نفرتوں میں اضافہ کرے گا۔‘

عمران خان ہمیشہ مختلف اہم مسائل پر ایسی پوزیشن لیتے ہیں جو باقی مین سٹریم سے الگ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے بیانات کو تسلیم کرنے پر فی الفور زیادہ لوگ تیار نہیں ہوتے، لیکن اس سے ان کا کہنا ہے کہ انہیں فرق نہیں پڑتا اور وہ اپنی سوچ پر قائم ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں