لاہور ہائی کورٹ میں حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور ہائی کورٹ نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر ہائی کورٹ آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اعتراض کی روشنی میں ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

حافظ سعید کی نظر بندی کے خلاف مقامی وکیل سرفراز حسین نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کیا گیا۔

’حافظ سعید کی نظربندی قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ ہے‘

حافظ سعید نظر بند، جماعت الدعوۃ واچ لسٹ میں شامل

لاہور ہائی کورٹ آفس نے درخواست پر اعتراض لگایا تھا کہ حافظ سعید کی نظر بندی کے احکامات کی نقل درخواست کے ساتھ نہیں لگائی گئی۔

امیر جماعت الدعوۃ حافظ سعید کی نظر بندی کی درخواست اعتراض کے ساتھ سماعت کے لیے پیش کی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس ارم سجاد گل نے درخواست پر ہائی کورٹ آفس کے اعتراض کی سماعت کی۔

کارروائی کے دوران درخواست گزار وکیل نے بتایا کہ ہائی کورٹ آفس نے درخواست پر اعتراض لگا کر اس کو ناقابل سماعت قرار دیا ہے۔

وکیل کے مطابق ہائی کورٹ نے ان کی درخواست پر اعتراض لگایا کہ حافظ سعید کی نظر بندی کے احکامات کو درخواست کے ساتھ لف نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ ہائی کورٹ آفس کے اعتراض کو ختم کرکے اس پر کارروائی کی ہدایت کی جائے۔

تاہم جسٹس ارم سجاد گل نے ہائی کورٹ آفس کے اعتراض کو برقرار رکھا اور درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

اس سے پہلے درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ حافظ سعید کو امریکہ کے دباؤ پر نظر بند کیا گیا ہے۔

درخواست گزار وکیل کے مطابق حافظ سعید کی نظر بندی سے تحریک آزادی کشمیر متاثر ہوگی۔

درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا کہ حافظ سعید کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور آئین کے تحت کسی شہری کو بلا جواز نظر بند نہیں کیا جاسکتا.

درخواست میں استدعا کی گئی کہ حافظ سعید کو عدالت میں طلب کر کے انھیں آزاد کرنے کا حکم اور نظر بندی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ پیر کو وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے خلاف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اقدامات کے اعلان کے بعد رات گئے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو لاہور میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

جبکہ پاکستانی فوج کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظربندی کو ریاست کی جانب سے قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں