پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری

ایم کیو ایم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی حکومت پہلے ہی الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوا چکی ہے

پاکستان کی وزارت داخلہ نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ الطاف حسین کے خلاف ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درجنوں مقدمات درج ہیں۔

’الطاف حسین کے خلاف شواہد فراہم کیے جائیں‘

’ایم کیو ایم وہی جس کے قائد الطاف حسین ہیں‘

پاکستان میں درج ہونے والے مقدمات میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں بھی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین مرکزی ملزمان میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف بیانات دینے اور نعرے لگوانے سے متعلق ملک بھر کے متعدد تھانوں میں مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

اہلکار کے مطابق وزارت داخلہ سے منظوری کے بعد اس معاملے کو انٹرپول کو بھیجا جائے گا جس میں الطاف حسین کے خلاف ملک بھر میں درج ہونے والے مقدمات اور ان مقدمات میں ہونے والی عدالتی کارروائی کی نقول بھی لف کی جائیں گی۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ انٹرپول کے حکام ان دستاویزات کا جائزہ لیں گے اور ٹھوس شواہد پر مبنی ثبوت ہونے کی بنا پر سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس سے رابطہ کیا جائے گا اور اُنھیں الطاف حسین کو پاکستان کے حوالے کرنے کے بارے میں کہا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ مجرموں کے تبادلوں سے متعلق مسودہ تو تیار کر لیا گیا تھا تاہم ابھی تک یہ معاملہ سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایم کیو ایم کی پاکستان میں قیادت لندن میں مقیم رہنماؤں سے علحیدگی کا اعلان کر چکی ہے

خیال رہے کہ پاکستانی حکومت پہلے ہی الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوا چکی ہے۔ اس ریفرنس کے ساتھ الطاف حسین کی تقریر اور اپنی جماعت کے لوگوں کو تشدد اور بدامنی پر اکسانے کے شواہد بھی برطانوی حکام کو فراہم کیے گئے تھے۔

پاکستانی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق اس ریفرنس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد نے نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ الطاف حسین نے گذشتہ سال 22 اگست کو کراچی میں اپنی جماعت کے کارکنان سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ اس خطاب کے بعد مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے مقامی میڈیا کے ملازمین اور دفتر پر حملے بھی کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ اس واقعے کے بعد الطاف حسین نے اپنی تقریر کے لیے معافی بھی مانگی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں دیکھ کر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اسی عالم میں وہ تقریر کر بیٹھے۔

ایم کیو ایم کے پاکستان میں موجود اہم رہنما بھی پارٹی کے قائد سے لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں۔

پاکستان اور ملکی اداروں کے خلاف نعرے لگوانے کے خلاف درج ہونے والے مقدمے کی سماعت میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم الطاف حسین کی حاضری کو یقینی بنانے کا حکم جاری کیا تھا تاہم وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

اسی بارے میں