بلوچستان میں 6.3 شدت کا زلزلہ، نقصان کی اطلاع نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Sajid Noor

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بدھ کی صبح 6.3 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز پسنی کے جنوب مغرب میں تھا جبکہ اس کی گہرائی 25.9 کلومیٹر تھی۔

زلزلے کے جھٹکے منگل اور بدھ کی درمیانی رات تین بجے گوادر، مکران اور پسنی میں محسوس کیے گئے۔

زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل اسلم ترین کا کہنا تھا کہ زلزلے کی شدت 6.6 تھی۔

ضلع گوادر میں زلزلے سے سب سے زیادہ اس کی تحصیل پسنی متائثر ہوئی ہے۔

پسنی کے اسسٹنٹ کمشنر اسماعیل ابراہیم نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ پسنی ٹاؤن اور اس کے نواحی علاقوں میں 50 کے قریب مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

کوئٹہ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم کے ڈائریکٹر جنرل اسلم ترین نے بتایا کہ زلزلے سے گوادر سے متصل ضلع کیچ کی تین تحصیلیں بھی متائثر ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

اس سے قبل ستمبر 2013 میں بھی بلوچستان کے علاقے آواران اور کئی دوسرے اضلاع میں آنے والے 7.7 شدت کے شدید زلزلے سے 200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ستمبر 2013 کے زلزلے کے نتیجے میں گوادر کے قریب ایک جزیرہ نمودار ہوا تھا

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی 3.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔

پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزلہ شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کو آیا تھا، جس کے نتیجے میں 75 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔

متعلقہ عنوانات