الیکشن کمیشن کی جرمن تنظیم کے ساتھ معلومات کے تبادلے پر پابندی

پاکستان

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں الیکشن کمیشن کے تمام افسران اور اہلکاروں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ کوئی بھی جرمنی کی غیر سرکاری تنظیم ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے ساتھ معلومات کا تبادلہ نہیں کیا کرے گا۔

اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مذکورہ جرمن غیر سرکاری تنظیم کو ابھی تک پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے سیکورٹی کلیئرنس سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ حکم نامے پر ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے اعلی عہددار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر یہ کہا کہ تنظیم کے اندراج کا معاملہ وزارت داخلہ میں زیرغور ہے مگر ادارے کو ایک عبوری اجازت نامے پر پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ان کا مزید ہنا تھا کہ ابھی تک ادارے پر پابندی کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نہ ہی وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی تحریری یا زبانی طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق 130 غیر سرکاری تنظیموں میں سے صرف 56 کی سکیورٹی کو کلیئر کیا گیا ہے جبکہ باقی پر کام جاری ہے اور ڈیموکریسی ریپورٹنگ انٹرنیشنل اس فہرست میں 82 ویں نمبر پر ہے۔

اس تنظیم نے پاکستان میں اپنے کام کا باضابطہ آغاز 2010 میں کیا تھا۔ پاکستان میں مُلکی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں پر مختلف اوقات میں پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔

نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے رُکن چوہدری محمد شفیق نے اس بارے میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار عیبد ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ بدقسمتی سے ہمارے مُلک میں یہ غیر سرکاری ادارے بدنام ہو چُکے ہیں، مگر حقیقت میں ان اداروں نے اس مُلک اور قوم کی مختلف مشکل اوقات میں مدد کی ہے اس لئے ان پر مکمل پابندی ناقابل قبول ہے۔‘

بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں پر پابندی کے اثرات پر محمد شفیق کہتے ہیں کہ ’یہ حکومتی اداروں کی زمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کو مُلک میں اپنا کام شروع کرنے سے پہلے اُن کے کام کی مکمل جانچ پڑتال کرے اور کسی بھی تنظیم کو عبوری اجازت نامہ دینے سے پہلے سکیورٹی اور دیگر معاملات کو یقینی بنایا جائے۔‘

پاکستان میں مُلکی اور بین الاقوامی سرکاری تنظیموں کے حوالے سے اُٹھائے جانے والے اقدامات اور ریاستی مشینری کے درمیان معاملات کو بہتر بنانے کے لئے نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے محمد شفیق کہتے ہیں کہ ’وزارت داخلہ کہ ساتھ دیگر انتظامی اور متعلقہ اداروں کو مل کر ان بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے لائحہ عمل کا باغور جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ہی آئندہ کے تلخ فیصلوں سے بچا جا سکے گا۔‘

جرمن غیر سرکاری تنظیم پر پابندی کے علامیے پر الیکشن کمشن آف پاکستان سے بات کرنے اور موقف لینے کی کوشش کی گئی مگر اس معاملے پر بات کرنے سے گُریز کیا گیا۔

اسی بارے میں