انڈیا خفیہ جوہری شہر تعمیر کر رہا ہے: پاکستانی دفتر خارجہ

نفیس زکریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’انڈیا کا جنگی جنون عروج پر ہے اور وہ بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل بھی بنا رہا ہے‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے جنوبی علاقے میں ایک خفیہ جوہری شہر تعمیر کیا جا رہا ہے جہاں پر امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق تھرمل جوہری ہتھیار تیار کیے جائیں گے۔

یہ دعویٰ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کیا تاہم اُنھوں نے اس سلسلے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

’بھارت کا ہائیڈروجن بم بنانے کا خفیہ منصوبہ‘

خیال رہے کہ دسمبر 2015 میں امریکی جریدے' فارن پالیسی' نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا خفیہ طور پر ایک ایسا جوہری مرکز تعمیر کر رہا ہے جو برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مرکز ہوگا جس کا مقصد ملک کی ہائیڈروجن بم بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

فارن پالیسی کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ریاست کرناٹکہ کے چلاکیرے کے علاقے میں زیر تعمیر یہ 'نیوکلئیر سٹی' یا جوہری شہر 2017 تک مکمل ہو جائے گا اور حکومت کا منصوبہ ہے کہ یہاں نئے ہائیڈروجن بم بنانے کے لیے یورنینیم کی افزودگی کی جائے گی جس سے انڈیا کے جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈیا کا جنگی جنون عروج پر ہے اور وہ بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل بھی بنا رہا ہے جس کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس جانب اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے اور وہ انڈیا کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے انڈیا کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافے کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اُٹھایا تھا۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کرنے کی اپنے تئیں کوششیں کیں لیکن وہ اس میں ناکام رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی بحری مشقوں میں روس سمیت دیگر ممالک کی شمولیت اس کا واضح ثبوت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈین افواج لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں جس کی وجہ سے متعدد شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے دفتر خارجہ نے مبینہ جوہری شہر کے بارے میں تفصیلات مہیا نہیں کی ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سات مسلم ممالک کے شہروں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے حوالے سے نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستانی شہریوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی اور اس ضمن میں پاکستان میں امریکی سفارت خانے اس ضمن میں ایک جامع پلان بھی ترتیب دیا ہے۔

دو روز قبل لندن جانے والی پی آئی اے کی پرواز میں ہونے والے واقعے کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ قومی ایئرلائن کی اس پرواز کو برطانوی حکام نے ہیتھرو ائرپورٹ پر اترنے کی بجائے سٹینسٹڈ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی اجازت دی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی حکام نے اس پرواز سے ایک شخص خالد بقا کو حراست بھی لیا۔

اسی بارے میں