کراچی کے لاپتہ جزائر

کتاب تصویر کے کاپی رائٹ Gul Hassan

کراچی کی تاریخ کے محقق گل حسن کلمتی نے اپنی کتاب ’سندھ کے سمندری جزائر‘ میں کراچی کے لاپتہ ہونے والے سمندری جزائر، زمین پر قبضوں، ماہی گیروں کے وسائل محدود ہونے اور سہولیات کے فقدان پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

کراچی کی سمندری حدود میں صرف نو ایسے جزائر ہیں جو آباد ہیں، ان میں شمس پیر، بابا، بھٹ، چاگلو، قلعو، کنیری، واگورو اور بھنڈار شامل ہیں۔ شمس پیر جزیرے کی جیٹی کے قریب نیوی نے مینگرووز کاٹ کر نیول پوسٹ بنا لی ہے۔

سندھی میں تحریر کی گئی کتاب کے مصنف کے مطابق صالح آباد جزیرہ تھا لیکن منہوڑہ کو بذریعہ سڑک ملانے کے بعد یہ آبادی بن چکی ہے اس طرح منہوڑہ بھی جزیرہ نہیں رہا یہ کنٹمونمنٹ ایریا ہے۔ یہاں دو قلعوں کے آثار موجود ہیں جو کراچی شہر اور بندرگاہ کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے۔

باتھ آئی لینڈ کو مصنف کے مطابق مقامی طور پر ’خرکھاری‘ کہا جاتا تھا۔ انگریز دور میں اس کی جزیرے والی حیثیت ختم کردی گئی تھی اور اسی طرح کلفٹن جسے ’ہوا بندر‘ کہا جاتا تھا وہاں بھی جزیرہ نہیں رہا۔

کلفٹن کے بارے میں مصنف نے مختلف حوالوں سے لکھا ہے کہ سندھ کے فاتح چارلز نپیئر برطانیہ میں جہاں پیدا ہوئے اس علاقے کا نام کلفٹن تھا۔ اس وجہ سے ہوا بندر کا نام کلفٹن سے منسوب کیا گیا۔

گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ اس کے دوسری جلد میں وہ ٹھٹہ اور بدین کے جزائر کی تفصیلات بیان کریں گے۔

گل حسن کلمتی ڈیفنس کے قریب گذری کے علاقے کو ’گسری بندر‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں کے پہاڑوں کا پتھر کراچی کی قدیم عمارتوں میں استعمال کیا گیا۔ بعد میں یہ علاقہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں آگیا اور میرین ڈرائیو کی وجہ سے ماہی گیروں پر مچھلی کا شکار کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔

گل حسن کلمتی نے کراچی کے چھوٹے بڑے تمام ہی جزائر کا خود دورہ کیا ہے اور یہ کتاب تحریر کی ہے۔ تحقیق میں برطانوی دورِ حکومت کے افسران کی ڈائریوں اور سرکاری ریکارڈ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق جزائر پر پینے کے پانی، صحت اور صفائی، کھیل کے میدانوں کا فقدان دیکھا گیا۔ بابا اور بھٹ جزائر میں قبرستان نہیں ہیں اور وہاں کے لوگ تدفین کے لیے میتیں موروڑو قبرستان، شیر شاہ اور میوہ شاہ قبرستان لیاری لے کر جاتے ہیں۔

کراچی میں ان دنوں چرنا جزیرہ سکوبا ڈائیونگ اور سنارکلنگ کی وجہ سے مقبول ہے۔ گل حسن کے مطابق یہ جزیرہ سندھ اور بلوچستان کی سمندری سرحد ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک پہاڑ ہے جس پر انسانی آبادی نہیں ہے۔ حب ندی سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ جزیرہ 1.2 کلومیٹر لمبا اور نصف کلومیٹر چوڑا ہے۔ یہاں مچھلیوں کی مختلف اقسام سمیت سبز کچھوے بھی پائے جاتے ہیں۔ اس جزیرے کو پاکستان نیوی فائرنگ رینج کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

مصنف کے مطابق چرنا کے قریب ماہی گیروں کے تین گاؤں موجود ہیں۔ نیوی نے انھیں وہاں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کے ان کے پاس برطانوی دور کے کاغذات موجود تھے۔ عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا لیکن اب ان علاقوں میں کسی عام شخص کو جانے کی اجازت نہیں جب تک کوئی مقامی شخص ساتھ نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Gul Hassan

سینڈز پٹ کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ مقامی لوگ اسے ’دوہو‘ کہتے تھے اب اس سے ملحقہ علاقے کو ہاکس بے کہا جاتا ہے۔ انگریز دور میں مسٹر ہاکس کی بیوی بیمار ہوگئیں اور موسم کی تبدیلی کے لیے وہ انھیں یہاں لے کر آئے جس کے بعد سے اس کا نام ہاکس بے پڑ گیا۔

ماڑی پور کے تاریخی حوالے کے بارے میں گل حسن کلمتی نے تحریر کیا ہے کہ یہاں ایک کوٹھی تھی جس کو سندھ میں ماڑی کہا جاتا ہے اور اسی حوالے سے یہ نام پڑا۔ اس کے علاوہ یہاں ایئر بیس بھی موجود تھا جو دوسری عالمی جنگ میں بھی استعمال ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد اس فضائی اڈے کا نام مسرور ایئربیس رکھ دیا گیا۔ محمد علی جناح کو جب زیارت سے لایا گیا تو ان کے طیارے نے یہاں ہی لینڈ کیا اور یہاں سے ایمبولینس کے ذریعے منتقل کرتے ہوئے وہ انتقال کرگئے تھے۔

کراچی کے جزائر کے بارے میں اس کتاب میں سمندری آلودگی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق چرنا جزیرے سے لے کر پورٹ قاسم تک بجلی پیدا کرنے والے 10 تھرمل اور ایک نیوکیلئر پاور پلانٹس موجود ہیں جو آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔ انھوں نے پورٹ قاسم اتھارٹی کو بے لگام گھوڑا قرار دیا ہے اور کہا کہ ماہی گیروں کے وسائل اور تمر کے جنگلات کو سب سے زیادہ نقصان انھوں نے پہنچایا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں