مقتول بلوچ رہنما کا مبینہ طور پر لاپتہ بیٹا لوٹ آیا

بالاچ بلوچ تصویر کے کاپی رائٹ Balach Baloch
Image caption 21 سالہ بالاچ نے والد کی ہلاکت کے بعد حصولِ تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں مقیم مقتول بلوچ رہنما غلام محمد بلوچ کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ان کے لاپتہ ہونے والے بیٹے بالاچ بلوچ گھر واپس لوٹ آئے ہیں۔

خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ نامعلوم افراد بالاچ بلوچ کو ان کے گھر کے پاس چھوڑ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بالاچ بلوچ کے خاندان کا کہنا تھا کہ چھ دن قبل سادہ لباس میں ملبوس افراد انھیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

بالاچ کے کزن سجاد حسین نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا تھا کہ بالاچ ملیر کے علاقے میں اپنے نانا کے گھر پر مقیم تھے اور تین فروری کی رات تقریباً ڈھائی بجے کے قریب سادہ لباس میں ملبوس اہلکار گھجر میں داخل ہوکر بالاچ بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

خیال رہے کہ بالاچ کے والد غلام بلوچ اپریل 2009 میں لاپتہ ہوئے تھے اور نو اپریل کو تربت کے علاقے مرگاپ سے ان کی تشدد شدہ لاش ملی تھی۔

21 سالہ بالاچ نے والد کی ہلاکت کے بعد حصولِ تعلیم کا سلسلہ ترک کر دیا تھا۔ ان کی والدہ کا ان کے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا وہ نانا کے پاس رہتے ہیں لیکن کبھی کبھار اپنے گاؤں مند جاتے رہتے ہیں۔

سجاد حسین کا کہنا ہے کہ ان کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہے اور نہ ہی سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں