نجی نیوز چینل کی ڈی ایس این جی پر حملہ، ایک ملازم ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائل فوٹو

کراچی میں نجی نیوز چینل سما کی ڈی ایس این جی پر حملے میں چینل کا ایک ملازم ہلاک ہوگیا ہے اور صحافی تنظیمیوں نے حملے کے خلاف پیر کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

یہ واقعہ اتوار کی شب کے ڈی اے چورنگی کے قریب پیش آیا ہے۔

سما ٹی وی کے کنٹرولر نیوز عامر اسحاق سہروردی نے بی بی سی کو بتایا کہ شاہراہ نور جہاں تھانے کی حدود میں فائیو اسٹار چورنگی کے قریب اتوار کی شام ایک پولیس موبائل پر کریکر حملہ کیا گیا اور اس واقعے کی کوریج کے لیے ڈی ایس این جی روانہ کی گئی تھی۔

* ' پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک جگہ'

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ’ڈی ایس این جی جب کے ڈی اے چورنگی پر پہنچی تو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے پیچھے کی جانب سے فائرنگ کی، جس سے اس میں سوار تیمور عباس نامی اسسٹنٹ ہلاک ہوگیا۔

سما نیوز چینل کی ڈی ایس این جی پر گذشتہ چند سالوں میں یہ دوسرا حملہ ہے، اس سے قبل لالو کھیت کے قریب اسی چینل کی گاڑی پر فائرنگ سے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔

سما ٹی وی کے کنٹرولر نیوز عامر اسحاق سہروردی کا کہنا ہے کہ جس طرح بعض شدت پسند گروہوں کی جانب سے میڈیا ہاؤسز کو دھمکایا جارہا تھا، سما نیوز بھی اس کا ایک حصہ ہے۔

اس کے علاوہ ایک فرقہ وارانہ گروہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم جاری تھی۔

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ میڈیا ہاؤسز پر بھی حملوں کی دھمکی دی تھی، یہ دھمکی آمیز بیان ایک ویڈیو میں جاری کیا گیا تھا۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور ائی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سما نیوز پر حملے کا نوٹس لیا ہے اور متعلقہ افسران سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ انھوں نے ہدایت کی ہے کہ چھاپہ مار ٹیموں کو خصوصی ٹاسک دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAMAA TV

دریں اثنا ایس ایس پی مقدس حیدر نے اس بات کا شبہ ظاہر کیا ہے کہ ملزمان نے پہلے موبائل پر کریکر حملہ کیا اس کے بعد جب سما کی ڈی ایس این جی پہنچتی تو اس پر حملہ کیا گیا۔

کراچی میں نیوز چینلز کی سیٹلائٹ آلات سے لیس گاڑیوں پر یہ چوتھا حملہ تھا۔ اس سے قبل 17 جنوری 2014 کو میٹرک بورڈ ناظم آباد میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ میں ڈرائیور اور ٹیکنیشن سمیت 3 ملازم ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی طرح 8 اکتوبر 2015 کو بہادر آباد کے قریب جیو کی ڈی ایس این جی پر فائرنگ کے نتیجے میں ٹکنیشن ہلاک اور ڈرائیور زخمی ہوگیا تھا۔اسی سال 28 نومبر کو عیسیٰ نگری کے علاقے میں ڈان نیوز چینل کی ڈی ایس این جی پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں ایک ٹینکنیشن زخمی ہوگیا تھا۔

کراچی اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں صحافی تنظیموں نے حملے کے خلاف پیر کو احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں