تاریخ نویس، استاد اور سیاست دان حمیدہ کھوڑو انتقال کر گئیں

سندھ کی نامور تاریخ نویس، استاد اور سیاست دان حمیدہ کھوڑو اکیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔

کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر اتوار کی صبح ان کا انتقال ہوا۔ ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ کھانے کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انتقال کر گئیں۔

حمیدہ کھوڑو کی پیدائش 13 اگست 1936 میں لاڑکانہ کے علاقے عاقل میں ہوئی۔ ان کی بہن رشیدہ پاشا نے بی بی سی کو بتایا کہ حمیدہ 6 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔

’ہجرت کا تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا‘

حمیدہ کھوڑو نے پرائمری تعلیم لاڑکانہ سے حاصل کی، اس کے بعد کراچی یونیورسٹی سے گریجوئشین کی اور مزید تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔ برطانیہ سےانہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے گریجوئیشن ، آکسفرڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

وطن واپسی پر انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے شعبے تاریخ میں درس و تدریس کی ابتدا کی لیکن بعد میں سندھ یونیورسٹی آگئیں جہاں انہوں نے پاکستان سٹڈی سینٹر کی سربراہی کی۔

ان کی تصانیف میں 'سندھ تھرو سینچریز'، 'دی میکنگ آف ماڈرن سندھ'، 'کراچی میگا سٹی آف اوور ٹائمز' شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب 'محمد ایوب کھوڑو لائف آف کریج ان پالیٹکس' بھی تحریر کی۔ حال ہی میں انہوں نے آکسفرڈ کے لیے چاروں صوبوں کی مختصر تاریخ لکھی تھی جو بچوں کے لیے شائع کی گئی ہے۔

حمیدہ کھوڑو کے والد ایوب کھوڑو سندھ کے متنازع سیاستدان رہے ہیں۔ جب پاکستان میں ون یونٹ کا قیام عمل میں آیا سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون کو پنجاب کے ساتھ ملاکر ایک انتظامی یونٹ بنایا گیا تو وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے۔

سندھ میں قوم پرست جماعتوں کے علاوہ علمی ادبی تنظیموں نے بھی ون یونٹ کے خلاف بھرپور تحریک چلائی تھی، جس میں ایوب کھوڑو پر سندھ سے غداری کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ جنرل ایوب خان کے دور میں انہیں بھی گرفتار کیا گیا اور بعد میں چھ سال کے لیے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی۔

حمیدہ کھوڑو نے سندھ یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ کر سیاست میں حصہ لیا۔ وہ جئے سندھ محاذ اور اس کے دھڑوں اور ذیلی تنظیموں کے نظریاتی ادارے سپریم کونسل کی رکن تھیں۔ بعد میں وہ قوم پرست جماعتوں کے الائنس سندھ نیشنل الائنس میں شامل ہوگئیں اور 1988 میں الائنس کی جانب سے لاڑکانہ میں بیگم نصرت بھٹو کے سامنے انتخاب لڑیں جس میں انہیں شکست ہوئی اس کے بعد انہوں نے کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

سندھ کی سیاسی تاریخ کے مصنف خادم سومرو کہتے ہیں کہ حمیدہ کھوڑو تاریخ کی طالبہ تھیں اس لیے حقائق جانتی تھیں اور اسی لیے والد پر جو الزامات عائد ہوئے ان کی وضاحت نہیں کرتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Flickr

'تحریک بحالی جمہوریت میں جئے سندھ نہیں تھی بلکہ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں شامل تھیں۔ لیکن حمیدہ کھوڑو فوجی کارروائیوں سے متاثر گاؤں میں جاتیں اور لوگوں سے ملتی تھیں۔ اس کے علاوہ عالمی نشریاتی اداروں سے اس پر بات بھی کرتی تھیں اس لیے ان کا ایک کردار رہا۔'

جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید اور حمیدہ کھوڑو کے والد ایوب کھوڑو کے نظریاتی اختلافات رہے لیکن ذاتی طور پر وہ دوست بھی رہے۔ جئے سندھ متحدہ محاذ کو بحال کرنے کی کوشش میں ایوب کھوڑو کو شامل کرنے کی کوشش کی لیکن رسول بخش پلیجو کی سربراہی میں ان کی مخالفت کی۔

حمیدہ کھوڑو نے جی ایم سید کو نواز شریف کے قریب لانے کی بھی کوشش کی۔ 1989 میں جی ایم سید کو گرفتار کیا گیا۔

پروفیسر تاج جویو کا کہنا تھا کہ حمیدہ کھوڑو کی پوری کوشش تھی کہ جی ایم سید پنجاب چلیں اور نواز شریف سے ملاقات کریں لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔ جب ان کا قافلہ روجھان پہنچا تو انہوں نے قافلہ بلوچستان کی طرف کردیا تھا جہاں سے انہیں گرفتار کیا گیا۔

حمیدہ کھوڑو جام صادق کے دور حکومت میں کچھ مہینوں کے لیے وزیر تعلیم رہیں۔ بعد میں 2002 کے انتخابات میں وہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر خواتین کی مختص نشست پر سندھ اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور انہیں محکمہ تعلیم کا قلمدان دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں