خلائی تعزیت کی دنیا؟

بانو قدسیہ
Image caption بانو قدسیہ کی کل تصانیف کی تعداد دو درجن سے زیادہ ہے اور ان میں ناول، افسانے، مضامین اور سوانح شامل ہیں

بچھڑنا اور پھر بصورتِ موت کسی کا دائمی بچھڑنا بہرحال ایک تکلیف دہ جذباتی تجربہ ہے اور اس کا اظہار بھی مثبت لفظیات میں ہی ممکن ہے۔ جیسے مرنے والے کی خوبیاں اجاگر کرنا، پسماندگان سے ہمدردی کرنا اور دلاسہ دینا۔ یہی شرافت کا عالمی کلچر ہے کہ جس میں اپنے اپنے فطری انداز میں کالاہاری صحرا کے بش مین سے نیویارک کی کاروباری اشرافیہ تک، ملحد سے لے کر مولوی تک ہم سب حصہ دار ہیں اور رہیں گے۔

مگر سوگواری اور تعزیت کے پاکیزہ عمل میں جب کلیشے (یعنی کھوکھلا پن) گھس آتا ہے تو وہ اس پورے عمل کو غیر سنجیدہ بھی بنا سکتا ہے۔

مثلاً یہ ایک مناسب اور معقول تعزیتی اظہار ہے کہ محمد اسلم کی ملک یا برادری یا ادارے کے لیے خدمات تادیر یاد رہیں گی اور ہم ان کے کام یا نظریے کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہیں گے۔ مگر اس اظہار سے آج کل کسی کی تسلی نہیں ہوتی جب تک یہ نہ کہا جائے کہ محمد اسلم کی وفات نے جو خلا چھوڑا ہے وہ کبھی پُر نہ ہو سکے گا۔

یہ بات اگر محمد اسلم کی اولاد کہے تو سمجھ میں بھی آتی ہے۔ مگر یہ کلیشے سوائے محمد اسلم کے بچوں کے ہر ایک نہایت سہولت سے استعمال کر جاتا ہے یہ جانے بغیر کہ اس کا مطلب کیا ہے۔

یہی کوئی بتا دے کہ محمد اسلم نے کس کا خلا پُر کیا تھا؟ اور آپ کو کیسے پتہ چلا کہ محمد اسلم کا خلا کبھی پر نہیں ہو گا؟ محمد اسلم سے پہلے آپ کس کس کے بارے میں یہی بات کہہ چکے ہیں؟ محمد اسلم میں ایسی کون سی خاص صفت تھی جو نہ ان سے پہلے کسی میں تھی اور نہ آئندہ کسی میں ہو گی؟

بات شاید یہ ہے کہ ہم اپنی کم مائیگی یا بےبسی ڈھانپنے یا پھر لاعلم عریانی کے خلا کو بھرنے کے لیے ایسے جملوں کا لاشعوری یا شعوری سہارا لیتے ہیں۔ مثلاً میں نے ایک درویش کے مزار کے گیسو دراز باریش متولی سے پوچھا کہ ذرا مجھے صاحبِ مزار کے کچھ فضائل بتائیے تاکہ اپنا مضمون مکمل کر سکوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FLICKR
Image caption سندھ کی نامور تاریخ نویس، استاد اور سیاست دان حمیدہ کھوڑو کی تصانیف میں 'سندھ تھرو سینچریز،' 'دی میکنگ آف ماڈرن سندھ،' 'کراچی میگا سٹی آف اوور ٹائمز' شامل ہیں۔

متولی صاحب نے کہا 'سائیں میری کیا اوقات کہ اس عظیم ہستی کے بارے میں کچھ بتا سکوں؟ کہاں میں کہاں وہ۔ ان کے بارے میں تو بات کرنے کا سوچتے ہی زبان میں لکنت آ جاتی ہے۔ وہ شبد کہاں سے لاؤں جو ان کی ذات کا احاطہ کر سکیں۔۔۔؟

کوئی آدھ پونے گھنٹے کی سرتوڑ کوشش کے بعد متولی صاحب نے صاحبِ مزار کی فضیلت میں واحد کام کا جملہ یہ کہاء 'سائیں بہت بڑی روحانی شخصیت اور اس علاقے کے قطب تھے۔۔۔'

میرا جی چاہا کہ صاحبِ مزار کے منوں ٹنوں پھولوں اور چادروں میں چھپے مرقد پر جا کر متولی اور اپنا سر ٹکرا کے جان لے لوں یا دے دوں۔

جب بھی کوئی بڑا آدمی مرتا ہے تو مجھے اپنے اردگرد بے شمار ایسے متولیوں کا جھاڑ جھنکار نظر آتا ہے۔ بھلے وہ وزیرِاعظم ہاؤس میں اونگھتا سائکلو سٹائل تعزیت جاری کرنے والا بیزار کلرک ہو یا شیدے پہلوان سے بانو قدسیہ اور حمیدہ کھوڑو تک ہر ایک پر بولنے والے پیشہ ور ردالیے، جو جانے والے کے کام اور عمل کو سنجیدگی سے اجاگر کرنے کی محنت کے بجائے کلیشیاتے رہیں گے۔

مرحوم یا مرحومہ یا شہید کا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا، ان کی خدمات کا احاطہ ممکن نہیں، آنے والی نسلیں ان پر فخر کرتی رہیں گی، پپو تیرے خون سے انقلاب آئے گا، ہم اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالی جوارِ رحمت میں جگہ دے ۔۔۔ ریسٹ ان پیس ۔۔۔ آر آئی پی۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

اصحاب والا صفات اس دنیا میں آتے رہیں گے جاتے رہیں گے کیونکہ ’جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔‘ نہیں پر ہوگا تو خلائی تعزیت کرنے والوں کا خلا۔ کیا یہ حقیقت کسی کے مرنے سے کم المناک ہے؟

اسی بارے میں