لاہور ایک بار پھر نشانہ

لاہور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاہور میں سنہ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پر حملے کے بعد سے اب تک 20 سے زائد مہلک حملے ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

2017

  • 5 اپریل کو لاہور کینٹ کے علاقے بیدیاں روڈ پر ں مردم شماری کے عملے کی سکیورٹی ٹیم پر ایک خودکش حملے میں چار فوجی اہلکاروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک جبکہ 15 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔
  • 23 فروری کو شہر متمول علاقے ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے زیڈ بلاک کی کمرشل مارکیٹ میں ایک ریستوران کی عمارت میں دھماکہ ہوا جس میں چھ افراد ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
  • 13 فروری 2017 کو مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر ایک مظاہرے کے دوران خودکش حملہ ہوا جس میں ڈی آئی جی ٹریفک مبین احمد اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد محمود گوندل سمیت 11 افراد ہلاک اور 70 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

2016

  • 27 مارچ 2016 کو عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقعے پر گلشنِ اقبال پارک کے دروازے پر ایک خودکش حملہ ہوا جس میں 74 افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دھماکے کے بعد فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا

2015

  • 17 فروری 2015 کو قلعہ گوجر سنگھ میں واقع پولیس لائنز خودکش حملے کا نشانہ بنی اور اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔
  • 15 مارچ 2015: لاہور کے دو گرجا گھروں میں اتوار کی عبادت کے دوران بم دھماکہ ہوا جس سے 15 افراد مارے گئے۔
  • 29 مئی 2015: زمبابوے اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ کے دوران قذافی سٹیڈیم کے باہر خودکش دھماکہ ہوا تاہم اس میں حملہ آور ہلاک اور چند افراد زخمی ہوئے۔

2014

  • 02 نومبر 2014: واہگہ کے مقام پر پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر پرچم اتارنے کی تقریب دیکھنے کے لیے جمع ہونے والے افراد بم دھماکے کا نشانہ بنے اور اس واقعے میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔

2013

  • 07 جولائی 2013: انارکلی کی فوڈ سٹریٹ بم دھماکے کا نشانہ بنی جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سری لنکن ٹیم کے کھلاڑی اجنتھا مینڈس اور تھرنگا پارناویتھارا 2009 کے حملے کے بعد ایمبولنس میں ہسپتال جا رہے ہیں

2012

  • 01 اگست 2012: بادامی فروٹ منڈی میں دو بم دھماکے، دو افراد ہلاک۔
  • 12 جولائی 2012: نقاب پوش بندوق برداروں کا پولیس اکیڈمی پر حملہ، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نو پولیس کیڈٹ ہلاک۔
  • 24 اپریل 2012: لاہور ریلوے سٹیشن پر پانچ کلوگرام کے بم کا دھماکہ، تین افراد ہلاک۔

2011

  • 25 جنوری 2011: بھاٹی دروازے کے قریب کربلا گامے شاہ میں خودکش حملے میں 16 افراد ہلاک، 70 زخمی۔

2010

  • یکم ستمبر 2010: حضرت علی کے یومِ شہادت پر منعقد کیے جانے والے ایک شیعہ جلوس پر حملے میں کم از کم 38 افراد ہلاک۔
  • یکم جولائی 2010: داتا دربار میں دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو اڑا دیا جس سے 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔ ایک حملہ آور نے زیرِ زمین حصے، جب کہ دوسرے نے اوپری منزل پر دھماکہ کیا۔
  • 31 مئی 2010: لاہور کے ایک ہسپتال میں تین مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی جس سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 40 زخمی۔ حملہ آور جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
  • 28 مئی 2010: گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاؤن میں احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملے، سو سے زیادہ افراد ہلاک۔ دونوں حملے ایک ساتھ کیے گئے۔
  • 12 مارچ 2010: دو خودکش حملوں میں کم از کم 45 افراد ہلاک، سو سے زیادہ زخمی۔ آر اے بازار میں ہونے والے ان حملوں میں فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
  • آٹھ مارچ 2010: ایف آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں خودکش حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک، 60 سے زیادہ زخمی۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2009

  • 07 دسمبر 2009: آدھے منٹ کے وقفے سے ہونے والے دو طاقتور بم دھماکوں میں علامہ اقبال ٹاؤن کی مون مارکیٹ میں ایک سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے۔
  • 15 اکتوبر 2009: تین مختلف حملوں میں 14 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 38 افراد ہلاک۔ پولیس نے نو حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حملے ٹیمپل روڈ پر ایف آئی اے کی عمارت، مناواں پولیس ٹریننگ سکول اور بیدیاں روڈ پر ایلیٹ پولیس اکیڈمی میں ہوئے۔
  • 12 جون 2009: گڑھی شاہو میں جامعہ نعیمیہ مدرسے میں خودکش حملہ، طالبان مخالف مذہبی رہنما سرفراز احمد نعیمی سمیت سات افراد ہلاک۔
  • 27 مئی 2009: آئی ایس آئی کے دفتر کے باہر کار بم دھماکہ جس میں ایک سو کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ 27 افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی۔
  • 30 مارچ 2009: منواواں پولیس ٹریننگ سکول پر حملے میں آٹھ پولیس رنگروٹ اور ایک عام شہری ہلاک
  • تین مارچ 2009: قذافی سٹیڈیم کے قریب سری لنکن ٹیم پر حملہ۔ چھ پولیس اہلکار اور دو عام شہری ہلاک، سری لنکن ٹیم کے چھ ارکان زخمی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں