’ملک کے باہر دہشت گردی کرنے والوں کے لیے حکومت نرم گوشہ رکھتی ہے‘

لاہور حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب سینیٹ میں بحث سمٹنے لگی تو ہر چینل کی شہ سرخیوں میں لاہور میں ہونے والے دھماکے کی خبر تھی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پیر کی شام ایوانِ بالا کے اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اُس کی موجودہ صورت حال پر بحث ہو رہی تھی کہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے بم دھماکے کی اطلاع آئی۔

جب ایوانِ بالا میں سینیٹر سحر کامران نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے تحریک پیش کی اور اُس پر ایوان میں بحث شروع ہوئی تو کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔

سینیٹر سحر کامران نے اِس منصوبے پر حکومت کی عدم دلچسپی کا الزام لگایا اور کہا کہ عمل درآمد کے لیے جو رابطہ صوبوں کے ساتھ ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو رہا اور حکومت اِس کی کامیابی کے جو دعوے کر رہی ہے وہ درست نہیں ہیں۔

اپوزیشن ارکان میں سے کسی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے ناموں کی فہرست کو وسعت تو دی گئی لیکن کسی تنظیم پر پابندی نہیں لگائی گئی۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تو یہاں تک حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے اندر کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں اور ملک کے باہر اِنھی کاموں میں مصروف تنظیموں کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کرتی۔

’تمام عسکریت پسند گروپ جو سرحدوں کے اندر اور باہر دہشت گردی کر رہے ہیں ان سے یکساں طور پر پیش نہیں آیا جا رہا۔ جو ملک کے باہر دہشت گردی کر رہے ہیں اُن کے لیے حکومت نرم گوشہ رکھتی ہے۔‘

سینیٹر طاہر حسین مشہدی بھی اسی معاملے پر بول اٹھے کہ کراچی اور لاہور میں دفاعِ پاکستان کے سائے تلے غیر قانونی تنظیمیں جلسے کرتی ہیں اور چندہ جمع کرتی ہیں۔ سینیٹر سسی پلیجو نے انھی کی بات کو آگے بڑھایا اور کہا کہ کالعدم تنظیمیں اسلام آباد میں جلسے کر سکتی ہیں لیکن ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

حکومتی سینیٹروں کی باری آئی تو حسبِ توقع اُنھوں نے حکومتی اقدامات کا دفاع کیا۔

سینیٹر نہال ہاشمی بولے کہ ’موضوع اچھا ہے، نقطہ نظر اچھا ہے لیکن کوئی تجویز نہیں دی گئی جس سے حکومت کو بہتری لانے میں مدد ملتی، صرف الزامات لگائے گئے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ 'ایسا لگ رہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی نمائندہ بات کر رہا ہے اور پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینا چاہ رہا ہے۔'

سینیٹر سسی پلیجو کے اعتراض پر ان کا کہنا تھا کہ 'جن کے رشتہ دار ہیں وہ منا لیں ویلنٹائن ڈے، ہم تو پروین شاکر، فیض احمد فیض اور بانو قدسیہ کا دن منائیں گے۔'

قومی ایکشن پلان پر بحث کے دوران حزبِ مخالف کے رہنماؤں نے مدرسوں کے کردار پر سوال اٹھائے تو حکومتی سینیٹروں نے اُسے غریب اور یتیم بچوں کی درس گاہوں پر حملہ قرار دیا اور یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال کی مثال دی۔

مذہبی جماعت کے سینیٹر حافظ حمد اللہ بولے کہ یہ لوگ 'مدرسوں کے خلاف ہیں لیکن اُن کے خلاف نہیں جن تنظیموں کا نام سپریم کورٹ کے 2011 کے حکم نامے میں آیا ہے۔ کیا اُن پر پابندی لگی؟ جس پارٹی نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا اُس پر پابندی کی بات نہیں کی جاتی مدرسوں کو بند کرنے کی بات کی جاتی ہے۔'

غرض نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہو پانے کی جتنی شدت سے دلیل دی جاتی رہی اُتنی ہی شدت سے تاویل بھی پیش کی جاتی رہی۔

پھر حکومتی وزیر بلیغ الرحمن نے وہی اعداد و شمار ایوان کے سامنے دہرائے جو وہ کچھ عرصے قبل اپنی ہی رپورٹ کی صورت میں پیش کر چکے تھے۔ لیکن مقصد وہی تھا کہ حکومت کے اقدامات بالخصوص نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد دکھانا اور دہشت گردی میں کمی کا سہرا موجودہ حکومت کے سر باندھنا۔

خیر بحث ہوئی بھی اور جب سمٹنے لگی تو ہر چینل کی شہ سرخیوں میں لاہور میں ہونے والے دھماکے کی خبر تھی۔

خبر ایوان میں پہنچی تو چیئرمین سینیٹ نے بھی بھرپور انداز میں مذمت کی اور پھر کارروائی آگے بڑھا دی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں